اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتیرس نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پر قبضے اور فلسطینیوں کو دوسرے ممالک میں بسانے کے منصوبے کی شدید مخالفت کی ہے اور اسے فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دیا۔
گوتیرس نے کہا کہ فلسطین کا کوئی بھی حل، اگر وہاں کے عوام کی شمولیت کے بغیر کیا جائے، بے سود اور ناقابل عمل ہوگا۔گوتیرس نے مزید کہا کہ اگر ٹرمپ کے منصوبے پر عمل کیا گیا تو فلسطینی ریاست کا قیام ہمیشہ کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی شمولیت کو اس مسئلے کا حل قرار دیا اور عالمی برادری سے کہا کہ اس معاملے میں فلسطینیوں کے حقوق کا احترام کیا جائے۔یہ تنقید ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ پریس کانفرنس میں غزہ میں طویل المدت ملکیت کا ذکر کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ فلسطینیوں کو غزہ سے نکال کر دوسرے ممالک میں بسایا جا سکتا ہے۔ اس بیان پر حماس، اسرائیل، آسٹریلیا اور دیگر ممالک نے شدید اعتراض کیا ہے اور فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کی ہے۔اس منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے، گوتیرس نے عالمی سطح پر اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کے بغیر اس مسئلے کا کوئی مستقل حل ممکن نہیں۔