بھارتی ریاست تلنگانہ میں پولیس نے اسکول پرنسپل اور ڈائریکٹر کلو روپا ریڈی کے قتل کا معمہ حل کرتے ہوئے دسویں جماعت کے دو طلبہ کو گرفتار کیا ہے۔
روپا ریڈی 12 اگست کو اپنے گھر میں مردہ پائی گئی تھیں، جسم پر 27 چاقو کے وار تھے۔ ان کے شوہر حیدرآباد میں موجود تھے اور فون پر رابطہ نہ ہونے پر پڑوسیوں کو اطلاع دی گئی، جس کے بعد پولیس نے جائے وقوعہ سے لاش برآمد کی۔پولیس نے تفتیش کے لیے پانچ ٹیمیں تشکیل دیں، جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیجز، فرانزک شواہد، انگلیوں کے نشانات اور مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا۔ تفتیش کے دوران 80 سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب معلوم ہوا کہ مقتولہ روپا ریڈی نے اپنی خالہ سے گفتگو کے دوران آخری لفظ ’بابو‘ کہا تھا۔ اس بنیاد پر اسکول کے طلبہ سے تفتیش شروع کی گئی۔تفتیش میں 50 دسویں جماعت کے طلبہ پر توجہ مرکوز کی گئی، جن میں سے دو طلبہ کو حالیہ دنوں میں غیر معمولی رقم خرچ کرتے اور پارٹیوں میں شرکت کرتے دیکھا گیا۔ ان دونوں کو حراست میں لے کر تفتیش کے دوران قتل اور واردات کا اعتراف کرا لیا گیا۔پولیس کے مطابق، ان طلبہ نے بتایا کہ روپا ریڈی نے انہیں ہاسٹل بیگز سے نقد رقم اور موبائل فون نکالنے پر ڈانٹا تھا، جس کے بعد وہ ناراض ہو گئے۔
ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے 5 دن کی منصوبہ بندی کے بعد، ماسک اور دستانے پہن کر واردات کی، جس میں ایک طالب علم چاقو سے حملہ آور ہوا۔واردات کے روز، ملزم ماسک اور دستانے پہن کر گھر میں داخل ہوا، اور بیڈ روم میں 2.5 لاکھ روپے نقد، خون آلود کپڑے، ٹوپی اور موبائل فون لے گئے۔ چاقو کے وار سے پرنسپل کو زخمی کر کے فرار ہو گئے۔پولیس نے ملزمان کے قبضے سے ڈیڑھ لاکھ روپے نقد، خون کے دھبوں والے بعض نوٹ، ایک نیا آئی فون اور روپا ریڈی کا موبائل برآمد کیا ہے۔تفتیش سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دونوں طالبہ نے واردات سے قبل ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم پر پیسے کمانے کے طریقے تلاش کیے تھے۔