سید ذوالفقار علی شاہ، وزیرِ ثقافت و سیاحت سندھ، نے ایک اہم انکشاف کیا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے معروف اداکارہ ماہرہ خان اور اداکار فہد مصطفیٰ کے نام ستارۂ امتیاز کے لیے وفاقی حکومت کو بھیجے گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ نام سندھ کلچر ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے دو مرتبہ سفارشات کے تحت بھیجے گئے تھے، اور یہ سفارشات معروف شخصیات پر مشتمل ایک کمیٹی کی جانب سے منظور کی گئی تھیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ نامزدگیاں قومی سطح پر اداکاروں کی خدمات اور عوامی پذیرائی کی بنیاد پر کی گئی تھیں، اور ان کا مقصد سندھ کی ثقافت اور فنونِ لطیفہ کے فروغ میں ان کی خدمات کو سراہنا تھا۔ تاہم، افسوس کی بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے ان دونوں اداکاروں کے ناموں کو ستارۂ امتیاز کے لیے منظور نہیں کیا، اور ان کی سفارشات کو مسترد کر دیا۔سید ذوالفقار علی شاہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ سندھ حکومت کو یہ نہیں بتایا گیا کہ کیوں وفاقی حکومت نے ان ناموں کو مسترد کیا، اور نہ ہی ان وجوہات سے آگاہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو حیران کن اور ناقابل فہم قرار دیا، کیونکہ یہ دونوں اداکار ملک و قوم کے لیے ایک مثبت مثال ہیں اور ان کی خدمات کو سراہنا چاہیے تھا۔
اس معاملے پر کراچی میں تھیٹر فیسٹیول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کلچر ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی جانے والی یہ کوشش سندھ کے ثقافتی ورثے اور فنکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے تھی، اور انہیں امید ہے کہ مستقبل میں ایسے فیصلوں میں شفافیت اور وضاحت کا مظاہرہ کیا جائے گا۔اس خبر نے سندھ اور قومی سطح پر فنکاروں کے حقوق اور ان کی خدمات کی قدردانی کے حوالے سے اہم بحث کو جنم دیا ہے، اور عوام و فنکاروں کی جانب سے اس فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔