پاکستان اور جاپان نے تجارت، سرمایہ کاری اور دیگر اہم شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور جاپان کے وزارتِ خارجہ کے سینئر اسٹیٹ منسٹر مایا جی ٹاکوما کی ملاقات میں ہوا جو ٹوکیو میں جاپانی دفترِ خارجہ میں منعقد ہوئی۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے جاپانی قیادت اور عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جاپان ایک ایسا ملک ہے جو معاشی، سائنسی اور سماجی ترقی کا گہوارہ ہے، اور جس کی ترقی انسانی قدروں سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پنجاب میں جاپان کے ترقیاتی ماڈل کو نافذ کرنا چاہتی ہیں تاکہ عوام کو جدید سہولتیں میسر آسکیں۔مایا جی ٹاکوما نے وزیراعلیٰ پنجاب کو خوش آمدید کہا اور انہیں پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بننے پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ گزشتہ تین دہائیوں میں پہلی بار اس سطح کی پاکستانی قیادت نے جاپان کا دورہ کیا ہے۔ ان کے مطابق پنجاب میں 120 سے زائد ترقیاتی منصوبوں کا آغاز قابل تعریف ہے اور جاپان ہمیشہ پاکستان کو اپنا قریبی دوست سمجھتا ہے۔
ملاقات میں قدرتی آفات اور ان سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر بھی بات چیت ہوئی۔ مایا جی ٹاکوما نے پاکستان میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مریم نواز نے کہا کہ پاکستان جاپان کے تجربات سے استفادہ کرے گا تاکہ زلزلوں اور سیلاب جیسی آفات کا بہتر طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ جاپان کی تعمیراتی ٹیکنالوجی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کا ماڈل پاکستان کے لیے بے حد مددگار ثابت ہوگا۔وزیراعلیٰ پنجاب نے جاپانی قیادت کو سرمایہ کاروں کے لیے اپنی حکومت کی مراعاتی پالیسی سے آگاہ کیا اور کہا کہ جاپان کا تعاون اور مشکل وقت میں حمایت پاکستان کے لیے ہمیشہ یادگار رہے گی۔ملاقات کے اختتام پر مایا جی ٹاکوما نے مریم نواز اور ان کے وفد کی آمد پر شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔