عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات اور جیٹ فیول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث فضائی صنعت میں کم لاگت اور ماحول دوست متبادل ایندھن پر توجہ بڑھ رہی ہے۔
اسی سلسلے میں امریکی کمپنی ہارٹ ایرو اسپیس (Heart Aerospace) نے بجلی سے چلنے والے مسافر طیارے کی تیاری میں اہم پیش رفت کی ہے۔کمپنی کے تیار کردہ 30 نشستوں والے ’’X1‘‘ طیارے نے حال ہی میں نیویارک میں اپنی پہلی آزمائشی پرواز مکمل کی۔ کمپنی کے مطابق طیارہ مکمل طور پر بیٹری پاور پر پرواز کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق X1 طیارے کی لمبائی تقریباً 76 فٹ جبکہ وزن تقریباً 25 ہزار پاؤنڈ ہے۔ آزمائشی پرواز کے دوران طیارے نے تقریباً 1100 فٹ کی بلندی حاصل کی اور صرف بیٹری پاور استعمال کرتے ہوئے 27 منٹ تک پرواز کی۔اس آزمائشی پرواز کی ایک نمایاں بات بجلی کے استعمال کی کم لاگت بتائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 27 منٹ کی پرواز کے دوران استعمال ہونے والی بجلی کی لاگت تقریباً 5 ڈالر رہی، جو روایتی جیٹ فیول کے اخراجات کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم بتائی جا رہی ہے۔
فضائی صنعت میں نئی ٹیکنالوجی کی جانب پیش رفت
ماہرین کے مطابق مکمل طور پر برقی طیاروں کی تیاری میں سب سے بڑا چیلنج بیٹری کی توانائی کی گنجائش اور وزن ہے۔ موجودہ بیٹری ٹیکنالوجی کے باعث بڑے اور طویل فاصلے کے مسافر طیاروں کو مکمل طور پر بجلی پر چلانا اب بھی ایک مشکل مرحلہ ہے۔تاہم مختصر فاصلے کی پروازوں کے لیے چھوٹے اور کم مسافر بردار برقی طیارے فضائی صنعت میں ایک ممکنہ متبادل کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے طیاروں سے ایندھن کے اخراجات کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی اور کاربن اخراج میں کمی لانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ہارٹ ایرو اسپیس کی جانب سے X1 کی کامیاب آزمائشی پرواز کو برقی ہوا بازی کی ٹیکنالوجی کی ترقی میں ایک اہم تجربہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنا کر زیادہ مسافروں اور طویل فاصلے کی پروازوں کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں جاری رہنے کی توقع ہے۔