سندھ کے بیراجوں پر دبا ئو، کچے کا وسیع علاقہ ڈوب چکا، نوشہرو فیروز میں تباہی،کئی دیہات کے زمینی رابطے منقطع ، 36 انچ کی گیس پائپ لائن متاثر
لاہور(خصوصی رپورٹ )پنجاب کے کئی متاثرہ علاقوں میں سیلاب کا زور ٹوٹنے لگا تاہم ضلع ملتان کی تحصیل جلال پور پیروالا سے پانی نہ نکالا جاسکا۔ایم فائیو موٹروے پر شگاف ڈالنے کی تجویز،کئی علاقوں میں ابھی تک کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے،متاثرین نقصانات کے ازالے کیلئے حکومتی امداد کے منتظرہیں۔سینئرصوبائی وزیرمریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ حکومت متاثرین کے تحفظ اور بحالی کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔دوسری طرف سندھ کے بیراجوں پر پانی کا دبا ئو بڑھنے لگا، کچے کا وسیع علاقہ ڈوب چکا ، کئی دیہات کے زمینی رابطے منقطع ہو گئے،دریائے سندھ نے نوشہرو فیروز کے علاقوں میں تباہی مچا دی ، رابطہ سڑکیں بہہ گئیں،کئی شہروں میں آج بارش کا امکان ہے۔تفصیلات کے مطابق پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں سے پانی اْترنا شروع ہو گیا اور لوگ واپس اپنے گھروں کو جارہے ہیں تاہم جلال پور پیروالا میں 8 روز بعد بھی پانی میں معمولی کمی ہوئی، دریائے ستلج کا 40 فیصد پانی جلال پور اور لودھراں آرہا ہے۔حکام کے مطابق پانی نکالنے کیلئے ایم فائیو موٹروے پر شگاف ڈالنا ضروری ہے، متعلقہ کمیٹی تجویز کا جائزہ لے گی، علاوہ ازیں موٹرویپانچویں روز بھی جلال پور پیروالا سے جھانگڑہ انٹرچینج تک بند ہے، سیلاب کے باعث 36 انچ کی گیس پائپ لائن متاثر ہو گئی جبکہ بستی دوھوندو کے مقام پر بند میں ڈالے گئے شگاف کو پْر کرنے کا کام جاری ہے۔علاوہ ازیں سرگودھا کی تحصیل کوٹ مومن کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں 22سرکاری سکولوں کی تعطیلات میں مزید 3 دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔احمد پور شرقیہ اور اوچ شریف میں سیلابی صورتحال برقرار ہیاور وہاں متاثرہ علاقوں میں اب بھی 6 سے 8 فٹ تک پانی موجود ہے، متعدد آبادیوں کے متاثرین امداد کے منتظر ہیں، مچھروں کی بہتات سے ملیریا، گیسٹرو سمیت دیگر وبائی امراض پھیل رہی ہیں۔احمد پور شرقیہ کے 15 سے زائد موضع جات میں میڈیکل کیمپ موجود نہیں۔پاکپتن میں سیلابی پانی سے گائوں سوڈا رحمانی مکمل تباہ ہو گیا، گھر اور ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں دریا برد ہو گئیں۔بہاولنگر کی دریائی پٹی میں 30 سے زائد دیہات کے راستے تاحال منقطع ہیں، ایک لاکھ 40 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو چکیں۔ حویلی لکھا کے متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام تاحال شروع نہیں ہو سکا۔موضع رتیکا، جودھیکے، سوجیکے اور درازکے کے دیہات میں 600 سے زائد مکانات منہدم ہو چکے ہیں، مقامی افراد کے مویشی اور گھریلو سامان بھی سیلاب کی نذر ہو چکا، متاثرین سخت مشکلات اور فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ پاکپتن میں بھی ستلج کی سیلابی صورتحال نچلے درجے پر آ گئی ،انتظامیہ کی طرف سے فیروزپور چشتیاں میں 300 سیلاب متاثرہ خاندانوں کو راشن اور ضروری سامان فراہم کر دیا گیا۔ قصور میں گنڈاسنگھ والا تلوار پوسٹ کے مقام پر دریائے ستلج کے پانی کا بہا ئو 95 ہزارکیوسک، سطح 6.30فٹ، فتح محمد پوسٹ پر پانی کی سطح 11.80 جبکہ کیکر پوسٹ پر پانی کی سطح20فٹ ریکارڈ کی گئی۔ ادھر پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب کے باعث نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔ ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے سیلاب سے 47سو سے زائد موضع جات،مجموعی طور پر 47 لاکھ 23 ہزار لوگ متاثر ہوئے، سیلاب میں پھنس جانے والے 26 لاکھ 14 ہزار لوگوں،20 لاکھ 90 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ اس وقت منگلا ڈیم 95 فیصد جبکہ تربیلا ڈیم 100 فیصد، دریائے ستلج پر موجود انڈین بھاکڑا ڈیم 88 فیصد،پونگ ڈیم 94 فیصد جبکہ تھین ڈیم 88 فیصد تک بھر چکا،سیلاب سے حادثات میں 119 شہری جاں بحق ہوئے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق سیلابی علاقوں میں پانی کی سطح تیزی سے کم ہو رہی ہے،اس وقت دریائے سندھ، جہلم ، راوی ، چناب اور پنجند کے مقام پر پانی کا بہا ئو نارمل ہے ،دریائے ستلج میں درمیانے، نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ دریں اثناء ترجمان ریسکیو1122ملتان کے مطابق ریسکیو ٹیمیں جلال پور پیر والا کے سیلاب متاثرہ علا قوں کے مکینوں کے انخلا ء کیلئے متحرک ہیں ، اب تک مجموعی طور پر 24 ہزار 942 افراد اور5 ہزار 114 جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا۔ جبکہ پاک فوج کی سیلاب متاثرہ بہاولپور، علی پور اور لودھراں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں ، کمانڈر بہاولپور کور نے گزشتہ روز سیلاب متاثرین کی بحالی، طبی امداد اور جاری ریسکیو آپریشن کا جائزہ بھی لیا۔ادھر جلالپور پیروالا میں میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے سینئرصوبائی وزیرمریم اورنگزیب نے مزید کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بروقت انخلاء اور سیفٹی پلاننگ کے باعث ہزاروں قیمتی جانیں بچائی ، حکومت کی اولین ترجیح قیمتی جانوں اور عوامی اثاثوں کا تحفظ ہے،انفراسٹرکچر کی بحالی، بندوں کو مزید مضبوط بنانے اور بروقت حفاظتی اقدامات پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ادھر سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے، ریلا منگل تک کوٹری بیراج پہنچے گا جبکہ سیلابی ریلے کے باعث روہڑی میں دریا کنارے قائم ڈی ایس پی آفس زیرِ آب آگیا۔ نوشہرو فیروز میں کئی زمینداری بند ٹوٹ گئے، تحصیل مورو کے 5 دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔گڈو بیراج پر پانی کی سطح میں کمی کے باوجود کچے کے علاقوں میں پانی کا دبا ئو برقرار ہے۔لاڑکانہ میں کچے کے علاقہ کے رہائشیوں نے پھر انکار کردیا۔ادھر دادو میں میہڑ سے ملحقہ کچے کے کئی دیہات ،کندھ کوٹ میں 80 سے زائد دیہات پانی کی لپیٹ میں آگئے ہیں، قادر پور گیس فیلڈ سے گیس کی فراہمی معطل ہے۔ادھر سجاول کے سیلاب متاثرین اب بھوک، پیاس اور بیماریوں کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کچے کے درجنوں دیہات میں لوگ ابھی تک پھنسے ہوئے ہیں ۔ دریں ا ثناء محکمہ اطلاعات سندھ نے دریا ئوں اور بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین جاری کر دہ اعدادوشمار کے مطابق گدو بیراج پر پنجاب سے سیلابی پانی کی آمد میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے۔ گڈو بیراج پر جمعرات دوپہر تین بجے پانی کی آمد 4لاکھ85ہزار185 کیوسک اور اخراج 4لاکھ56ہزار964 کیوسک رہا ،اسی طرح سکھر بیراج پر آمد 5لاکھ 62ہزار 157 اور اخراج 5لاکھ10ہزار595 کیوسک،کوٹری بیراج پر آمد 3لاکھ 6ہزار 53 کیوسک جبکہ اخراج 2لاکھ89ہزار 89 کیوسک، پنجند کے مقام پر پانی کی آمد 14لاکھ4ہزار650 کیوسک اور اخراج 13لاکھ3ہزار850 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ۔ دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 2 دنوں میں لاہور ، راولپنڈی، اسلا م آباد، گجرات،فیصل آباد ، گوجرانوالہ ڈویڑن سمیت دیگر علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ وقفہ وقفہ سے بارش جبکہ بالائی علاقوں کے دریا ئوں میں پانی کے بہا ئو میں اضافے کا خدشہ ہے۔علاوہ ازیں چترال میں شامی گول کے مقام پر گزشتہ روز تیز بارش سے ندی نالوں میں طغیانی سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے، لاہور، اسلام آباد، مانسہرہ، گردونواح میں بھی کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش ہوئی۔