سندھ میں سیلاب‘کچے کا وسیع علاقہ ڈوب گیا‘لوگو ں کا گھر چھوڑنے سے انکار

سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، روہڑی میں ڈی ایس پی آفس زیرِ آب، کئی دیہاتوں میں پانی داخل،لاڑکانہ میں عاقل آگانی لوپ بند پر دبائو
قادر پور گیس فیلڈ سے گیس کی فراہمی معطل ‘ملتان میں36 انچ کی گیس پائپ لائن متاثر، جلال پور میں ایم 5 موٹر وے پانچویں روز بھی بند
لاہور، ملتان، سکھر (آئی این پی )پنجاب کے کئی سیلاب متاثرہ علاقوں میں پانی اترنے لگا ہے لیکن کچھ علاقوں اب تک کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے جبکہ سندھ کے بیراجوں پر پانی کا دبائو  بڑھنے لگا ہے، کچے کا وسیع علاقہ ڈوب چکا ہے، کئی دیہات سے زمینی رابطے منقطع ہو گئے۔پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں سے پانی اترنا شروع ہو گیا ہے، لوگ واپس اپنے گھروں کو جانے لگے جبکہ متاثرین نقصانات کے ازالے کے لیے حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔ سرگودھا کی تحصیل کوٹ مومن کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں سکولوں کی تعطیلات میں مزید 3 دن کی توسیع کر دی گئی۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ فیصلہ سیلاب ایمرجنسی اور بحالی کے کام کے پیش نظر کیا گیا، سیلاب سے متاثرہ 41 موضع جات کے 22سرکاری سکول بند رہیں گے، نجی سکول بھی بند رہیں گیاحمد پور شرقیہ اور اوچ شریف میں سیلابی صورتحال برقرار ہے، متاثرہ علاقوں میں اب بھی 6 سے 8 فٹ تک پانی موجود ہے۔مکھن بیلہ ، بکھری سرور آباد ، چناب رسول پور ، اسماعیل پور ، بھنڈہ وینس سمیت متعدد آبادیوں کے متاثرین امداد کے منتظر ہیں‘  دریائے چناب اور ستلج کے ریلوں سے متاثرہ ایم 5 موٹر وے پانچویں روز بھی جلال پور پیر والا کے مقام پر بند ہے، ملتان میں سیلاب سے 36 انچ قطر کی گیس کی پائپ لائن بھی متاثر ہوگئی جس کے بعد متاثرہ پائپ لائن کو گیس منقطع کردی گئی