سیلاب: کچے کے مزید دیہات ڈوب گئے

 جلالپور پیروالا کے قریب موٹر وے پر شگاف ،ریلے سکھر داخل ہو گئے ،گیس کے 10 کنویں متاثر، سپلائی معطل،منچن آباد میں متاثرین بے یارومددگار
 سیلاب کی تباہ کاریاں جاری مختلف علاقوں میں باپ بیٹی سمیت مزید 3 افراد ڈوب گئے، علی پورکے ریلیف کیمپ میں بھگدڑ سے شہری جاں بحق 
اوچ شریف کے 36 دیہات میں مکانات منہدم ، دریائے سندھ کے بیراجوں پر دبائو، آج سے 19 ستمبر تک پنجاب میں شدید بارش
لاہور( کرائم رپورٹر)پنجاب کے دریائوں میں پانی کی سطح کم ہونے کے باوجود جنوبی علاقوں میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری، جلالپور پیروالا کے قریب موٹروے کا ایک حصہ سیلاب میں بہہ گیا ،مختلف علاقوں میں باپ بیٹی سمیت مزید 3 افراد ڈوب کر ، علی پور میں ریلیف کیمپ پر دھکم پیل اور بھگدڑ سے شہری جاں بحق ہو گیا ،ایک عمررسیدہ شخص کی لاش بھی برآمد ہو گئی۔دوسری طر ف سیلابی ریلے سندھ میں بھی تباہی پھیلانے لگے ،دریائے سندھ کے سیلابی ریلے سکھر داخل،قادرپور گیس فیلڈ کے 10 کنویں شدید متاثر،2روز سے سپلائی معطل،کچے کے بڑی تعدادمیں دیہات زیرآب آگئے۔تفصیلات کے مطابق دریائے ستلج کا سیلابی ریلہ جلال پورپیروالہ میں تباہی مچاتے ہوئیلودھراں روڈ پر کوٹلہ موڑ، چوکراں تک پہنچ گیا اور موضع کنہوں اور اس کے اردگرد موجود تمام دیہات پانی میں ڈوب گئے،نئے متاثرہ علاقوں سے مکینوں کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے،سیلابی ریلہ کے کٹائو سے جلالپور پیر والا کے قریب موٹروے ملتان سکھر ایم فائیو (M-5) کا ایک حصہ سیلابی ریلے میں بہہ گیا جس کے بعد موٹروے کو ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا ۔ حکام کے مطابق اوچ شریف روڈ پر شگاف سے موٹروے کو شدید نقصان پہنچا جبکہ دریائے چناب کے پانی میں کمی کے بعد شجاع آباد کے زیرِ آب علاقوں میں بھی پانی اترنے لگا ہے۔ چناب کے سیلاب متاثر ہ علاقوں میں 1 فٹ سے 2 فٹ تک پانی کم ہو چکا تاہم سیلابی صورتحال برقرار ہیجبکہ بہادر پور میں نذرحسین اور اس کی بیٹی شازیہ سیلابی ریلے میں بہہ گئے،دونوں کی تلاش جاری ہے۔علاوہ ازیں ایدھی ورکرز کوریلے میں بہہ کر ڈوبنے والے 75 سالہ بزرگ سردار علی کی لاش ملی ہے۔ادھر علی پور کے سیلاب متاثرہ علاقہ لنگر واہ میں حکومت کے ریلیف کیمپ پر راشن اور خیموں کی تقسیم کے دوران دھکم پیل اور بھگدڑ کی وجہ سے موضع مسن کوٹ بھوآ بستی جسو والا کا رہائشی مرید حسین بیہوش ہو گیا، اس موقع پر اس کی بیوی موقع پر موجود پولیس اور لوگوں کو مدد کیلئے پکارتی رہی لیکن کوئی نہ آیا،بعدازاں اسے رشتہِ دار اپنی مدد آپ کے تحت تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال لے جا رہے تھے کہ وہ دم توڑ گیا۔ تحصیل شجاع آباد کے علاقے جلالپور کھاکھی میں 45 سال شخص مویشیوں کو سیلابی پانی سے باہر نکالنے کی کوشش میں ڈوب کر جاں بحق ہو گیا۔مزید برآں علی پور کے دیہات گھلواں دوم ،چوکی گبول،مڑی اوردیگرعلاقوں کے مکانات، بنیادی انفراسٹرکچر بھی پانی میں ڈوبا ہوا ہے، ہزاروں ایکڑ رقبہ پر کھڑی فصلیں ڈوب چکی ہیں۔ مختلف متاثرہ علاقوں کے مکین ریلیف کے منتظر ہیں۔ دریائے ستلج میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے چشتیاں کے 47 موضع جات زیر آب آ چکے، موضع راجو شاہ، بونگہ جھیڈ، مزید شاہ، بلاول، میرن شاہ شدید متاثر ہوئے ہیں، گنا، چاول، مکئی اور تل کی فصلیں زیر آب آ چکیں، 48183 ایکڑ زرعی رقبہ متاثر ہوا۔چاچڑاں کے مقام پر درمیانے درجے کے سیلاب سے درجنوں بستیاں اور سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیر آب آ گئیں۔دریں اثناء￿  ستلج نے منچن آباد کے 67 دیہات میں بھی تباہی مچا ئی اور76 کلومیٹر دریائی بیلٹ میں 56 ہزار 374 افراد شدید متاثر ہوئے، متاثرین کی بڑی تعداد تاحال کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔منچن آباد کے موضع شاموجسوکا، موضع دلاورجسوکا سمیت 20 سے زائد دیہات کا زمینی راستہ تاحال منقطع ہے، متاثرین گھروں کو واپس نہیں جا سکے۔ادھر سیلابی ریلے سندھ میں بھی تباہی پھیلا رہے ہیں ،دریائے سندھ میں گڈو ،سکھر اور کوٹری بیراج پر پانی کی آمد میں اضافہ جاری ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویڑن لاہور کے مطابق دریائے سندھ میں گڈوبیراج پر اونچے درجے ،سکھربیراج پر درمیانے ،کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے ۔لاڑکانہ سیہون حفاظتی بند کے عاقل آگانی لوپ بند کے مقام پر بڑا ریلا گزررہاہے، 20 سے زائد دیہات ڈوبنے کے باوجود کچے کے رہائشی علاقہ سے انخلاء￿  کو تیار نہیں ہیں، بند کو مضبوط کرنے کیلئے پتھر منگوا لئے گئے۔ دریائے چناب میں ہیڈ پنجند پر بہا ئومیں کمی کا سلسلہ جاری ہے جہاں پانی کا بہائو 3 لاکھ 33 ہزا ر کیوسک ریکارڈ کیا گیا مگر اب بھی اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا اور ہیڈ اسلام پر درمیانے درجے کے سیلاب ہیں، ہیڈ سلیمانکی پر بھی نچلے درجے کا سیلاب ہے ، دریائے راوی میں صورتحال معمول پر آ گئی۔محکمہ آبپاشی کے مطابق سکھر بیراج پرپانی کی آمد 5 لاکھ 38 ہزار کیوسک ریکارڈ کی جارہی ہے،آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی کی سطح میں اضافہ متوقع ہے۔اوچ شریف کے 25 دیہات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، 36 موضع جات میں مکانات منہدم ہو چکے اور ہزاروں ایکڑ رقبہ پر کھڑی فصلیں بھی ڈوب گئیں، سیلاب میں پھنسے متاثرین کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے جبکہ پرائیویٹ کشتی مالکان سامان منتقل کرنے کیلئے 40 ہزار روپے تک کرایہ وصول کر رہے ہیں۔ لاڑکانہ میں زمینداری بند میں 100 فٹ چوڑا شگاف پڑنے کے بعد پانی کا ریلا درگاہ ملوک شاہ بخاری میں داخل ہوگیا جبکہ پانی اب زرعی علاقوں اور آبادی کی جانب بڑھنے لگاہے۔ مزید برآں دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب سے قادرپور گیس فیلڈ کے 10 کنویں متاثر ہوئے ہیں جبکہ حفاظتی پلیٹس بھی بہہ گئیں اور 10 کنوئوں سے گیس کی سپلائی بند ہوگئی ۔ حکام کے مطابق کشمور میں دریائے سندھ میں گڈو بیراج پرپانی کے بہا ئو میں اضافہ ہوا ہے جس سے اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے ،پانی 48 گھنٹے میں سکھر بیراج پر پہنچنے کا امکان ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گڈو بیراج پر کوئی خطرہ نہیں تاہم کچے کے علاقوں پر پانی کی سطح میں بھی اضافہ کے بعد علاقے سے نقل مکانی جاری ہے اور کچے سے 30 ہزار لوگوں کو محفو ظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔دوسری جانب ضلع گھوٹکی کے علاقے جان محمد علی میں سیلاب سے متعدد دیہات زیر آب آگئے،انخلا کا عمل شروع نہ ہونے پر متاثرین مشکلات کا شکار ہیں۔ پنوں عاقل کی سات یونین کانسلز کے 100 دیہات زیر آب آ چکے ، لوگ نقل مکانی کرکے محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اندازہ ہے ساڑھے 6 سے 7 لاکھ کیوسک پانی آئیگا،این ڈی ایم اے نے گیارہ لاکھ کیوسک تک پانی سندھ پہنچنے کی اطلاع دی تھی۔امید ہے سیلابی ریلے کو خیریت سے سمندر تک لے جانے میں کامیاب ہوں گے،وفاقی حکومت متاثرین کی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے امداد کرے۔ دریں اثنا مون سون کے ایک اور سپیل نے بارشیں برسانے کیلئے کمر کس لی،آج سے 19 ستمبر تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید بارشوں کی پیشگوئی کردی گئی،پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ بھی سامنے آگیا۔تفصیلات کے مطابق جاری مون سون کے دوران اب تک دس طاقتور سپیلز اپنا زور بازو دکھا چکے جس کے باعث راوی، ستلج اور چناب بپھر پڑے، دریائوں کے بپھرنے کے نتیجے میں پنجاب میں شدید سیلابی صورت حال پیدا ہوئی اوربے تحاشا نقصا ن ہوا۔ اب مون سون کا 11 واں سپیل بھی بارشیں برسانے کیلئے تیار ہے جس کے اثرات ممکنہ طورپرآج منگل سے سامنے آناشروع ہوجائیں گے۔پی ڈی ایم اے کی طرف سے جاری الرٹ میں بتایا گیا ہے کہ 16سے 19 ستمبرتک راولپنڈی،گلیات ،اٹک ،چکوال، جہلم، گوجرانولہ،لاہور، گجرات اور سیالکوٹ میں بارشیں متوقع ، نارووال، حافظ آباد، قصور، جھنگ، سرگودھا اور میانوالی میں بارشوں کا امکان ہے۔بارشو ں کے باعث 18 اور 19 ستمبر کے دوران ندی نالوں میں پانی کے بہائو میں اضافہ ہوسکتا ہے۔اِس تمام صورت حال کے حوالے سے محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر عبدالعزیز نے روزنامہ دنیا کو بتایا کہ مون سون کے ممکنہ نئے سپیل کے دوران شدید بارشیں ہونے کا امکان ہے لیکن ان بارشوں کی شدت گذشتہ ہفتوں کے دوران برسنے والی بارشوں جتنی زیادہ نہیں ہوگی،نئے سپیل کی زیادہ شدت پنڈی، مری،چکوال ، سیالکوٹ او ر نارووال میں رہنے کا امکان ہے۔