ثناء یوسف قتل کیس: ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی گئی

ثناء یوسف قتل کیس: ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی گئی

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی ہے۔

فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج  افضل مجوکہ نے سنایا۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ملزم کو سزائے موت کے ساتھ 20 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا، جبکہ دیگر دفعات کے تحت اسے 10 سال قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔سماعت کے دوران عدالت میں ملزم اور مقتولہ کے درمیان مبینہ رابطوں سے متعلق کالز اور چیٹ کے اسکرین شاٹس بھی پیش کیے گئے، جنہیں استغاثہ کی جانب سے اہم شواہد قرار دیا گیا۔دورانِ سماعت مدعی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کو دو مرتبہ سزائے موت دی جائے، جبکہ دفاعی وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے اسٹیٹ کونسل اور ٹرائل کورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا اور اس کیس سے متعلق دو درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، اس لیے سخت سزا سے پہلے مکمل قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔

دفاعی وکیل نے مزید کہا کہ پہلے سے یہ طے کر لینا کہ ملزم کو سزائے موت دی جائے، انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز سماعت کے دوران ملزم عمر حیات نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے ثناء یوسف کو قتل نہیں کیا اور نہ ہی اس کا ان سے کوئی رابطہ تھا۔تاہم جج نے دورانِ تفتیش سامنے آنے والے شواہد پر سوالات اٹھاتے ہوئے استفسار کیا تھا کہ موبائل فارنزک میں “کاکا” کے نام سے منسوب نمبر کس کا ہے، جس پر ملزم نے وکیل کے بغیر جواب دینے سے انکار کر دیا تھا۔