ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس کی سماعت کے دوران اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے ملزم عمر حیات کا دفعہ 342 کے تحت بیان ریکارڈ کیا۔
سماعت کے آغاز پر سرکاری وکیل راجہ نوید حسین کیانی عدالت میں پیش ہوئے۔ دورانِ سماعت جج نے ملزم سے مختلف سوالات کیے، تاہم ابتدائی طور پر ملزم نے اپنی عمر سمیت متعدد سوالات کے جوابات دینے سے انکار کر دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے وکیل کی موجودگی کے بغیر بیان نہیں دے گا۔عدالت نے واضح کیا کہ دفعہ 342 کا بیان جج اور ملزم کے درمیان براہِ راست مکالمہ ہوتا ہے اور اس کے لیے وکیل کی موجودگی ضروری نہیں ہوتی۔ اس کے باوجود ملزم نے متعدد سوالات کے جواب دینے سے گریز کیا۔بعد ازاں ملزم کے وکلاء کمرہ عدالت میں پہنچے، جس کے بعد دوبارہ سوالات کیے گئے۔ اس دوران عدالت نے کمرہ عدالت میں ویڈیو بنانے اور ٹک ٹاک بنانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور واضح ہدایت دی کہ عدالت کے اندر کسی بھی قسم کی ویڈیو ریکارڈنگ کی اجازت نہیں ہوگی۔وکیل صفائی کی موجودگی میں ملزم نے اپنی عمر 23 سال بتائی، تاہم اس نے قتل کے الزام کی مکمل تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ اسلام آباد آیا، نہ ثناء یوسف کو جانتا ہے اور نہ ہی اس کا اس کیس سے کوئی تعلق ہے۔
اس نے مؤقف اپنایا کہ گاڑی کرائے پر لینے کا معاہدہ جعلی ہے اور اسے کیس مضبوط بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ملزم نے مزید کہا کہ اسے 3 جون کو جڑانوالہ سے صرف شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا اور پولیس نے اس کی ویڈیوز بنا کر وائرل کیں۔ اس کے مطابق ثناء یوسف کے اہل خانہ پر بھی دباؤ ڈالا گیا کہ اسے بطور ملزم شناخت کریں۔عمر حیات نے مبینہ اعترافی بیان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے کبھی ایسا کوئی بیان نہیں دیا اور وہ اس مقدمے میں بے گناہ ہے۔عدالت میں جاری سماعت کے بعد کیس ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں اب استغاثہ اور دفاع کے مؤقف کی بنیاد پر اہم قانونی نکات پر مزید بحث متوقع ہے۔