بین الاقوامی سائبر کرائم نیٹ ورک پکڑا گیا، 5گرفتار

ملزم آن لائن کے ذریعے کروڑوں بٹور چکے، امریکی، ڈچ حکام نے نشاندہی کی 
ملتان (خصوصی رپورٹ )حساس اداروں اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی ملتان نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پاکستان سے چلنے والے ایک بین الاقوامی سائبر کرائم نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا۔ اس گروہ کو "ہارٹ سینڈر گروپ" کے نام سے جانا جاتا ہے جو مبینہ طور پر امریکی اور دیگر غیر ملکی شہریوں کو آن لائن دھوکہ دہی کے ذریعے کروڑوں ڈالر کا نقصان پہنچا چکا ہے۔ذرائع کے مطابق ہارٹ سینڈر گروپ کی نشاندہی امریکا کی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن اور ڈچ پولیس نے مشترکہ کارروائی کے دوران کی، جس کے نتیجے میں درجنوں جعلی ویب سائٹس کو بلاک کیا گیا۔ اس کارروائی کے بعد ڈی جی NCCIA نے مزید تحقیقات کے لئے ملتان یونٹ کو خصوصی ٹاسک سونپ دیا۔ایڈیشنل ڈائریکٹر سا ئوتھ پنجاب کی سربراہی میں قائم کی گئی خصوصی ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے گروہ کے 21 رکنی نیٹ ورک میں شامل متعدد اہم ملزموں کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار افراد میں اسلم، عدیل عزیز، اسامہ نواز، عبدالمعیز اور شعیب نذیر شامل ہیں۔گروہ کے سرغنہ رمیض شہزاد المعروف "ہارڈسینڈر" کا تعلق ضلع لیہ کے علاقے فتح پور سے بتایا گیا ہے، جس نے لاہور کے بحریہ ٹائون اور ملتان کی سبزہ زار کالونی میں سائبر فراڈ کا مکمل نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔ ذرائع کے مطابق بحریہ ٹائون لاہور میں گروہ کے چار گھروں پر چھاپے مارے گئے جن سے بڑی مقدار میں ڈیجیٹل شواہد، موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور ڈیٹا سٹوریج ڈیوائسز برآمد ہوئیں۔گرفتار ملزموں کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016 اور تعزیراتِ پاکستان کی متعدد دفعات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ گروہ کے سرغنہ رمیض شہزاد کا بیرون ملک، خصوصاً ابوظہبی، آنا جانا رہا ہے اور اس کے سفری ریکارڈز حاصل کر لئے گئے ہیں۔حکام نے کارروائی کے دوران کروڑوں روپے مالیت کی قیمتی گاڑیاں، جائیدادیں اور دیگر اثاثے بھی ضبط کر لئے ہیں۔ مزید برآں گرفتار تمام ملزموں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیئے گئے ہیں تاکہ ان کے بیرون ملک فرار کو روکا جا سکے۔جبکہ مرکزی ملزم حسنین رضا ملتان نیٹ ورک چلا رہا تھا جس کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔