امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران سے متعلق حالات کے پیشِ نظر اپنا طے شدہ دورۂ چین مؤخر کر دیا ہے، تاکہ اس وقت وہ امریکا میں موجود رہیں اور صورتحال کا ذاتی طور پر جائزہ لے سکیں۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا کو بتایا کہ چینی صدر شی جنگ پنگ کے ساتھ ملاقات کا وقت تبدیل کیا جا رہا ہے اور چین نے اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔دورۂ چین 31 مارچ تا 2 اپریل تک طے تھا، لیکن خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث ملتوی کر دیا گیا۔صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان میں کہا کہ وہ مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کی ذمہ داری متحرک اتحادی ممالک کو دینے کا امکان بھی شامل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کنٹرول کرنا اور اتحادیوں کو زیادہ فعال کردار ادا کرنے کا موقع دینا ہے۔