اسلام آباد(آئی این پی )پاکستان اور آئی ایم ایف کے ورچوئل اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری ہیں اور آئی ایم ایف کا 7 ارب ڈالر پروگرام کے تحت مزید سخت نگرانی کا امکان ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے ٹیکس چوری روکنے کے لیے جدید نظام متعارف کرانے اورڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت کردی ہے، آئی ایم ایف نے رسک بیسڈ آڈٹ لازمی قرار دینے کی تجویز دے دی ہے۔آئی ایم ایف نے ایف بی آر کے ٹیکس اہداف پورے نہ ہونے پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے مزید شرائط عائد کرتے ہوئے عملی نتائج دکھانے کا مطالبہ کردیا ہے۔ایف بی آر نے بھی فیکٹریوں اور دکانوں کی کاروباری سیلز کو آن لائن رپورٹ کرنا لازمی بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے،حکام ایف بی آر کے مطابق اس وقت صرف ایک تہائی کاروبار مکمل ڈیٹا فراہم کررہے ہیں۔ حکومت نے آئی ایم ایف سے قرض کی قسط کیلئے نجکاری کے اہداف بروقت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس سال بجلی کی 3 تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا ہدف حاصل کرے گا۔ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹ مطابق اپریل کے وسط میں بجلی کی 3 تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے لیے بولیاں طلب کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، فیصل آباد الیکٹرک، گوجرنوالہ الیکٹرک اور اسلام آباد الیکٹرک کمپنی نجکاری کی اولین فہرست میں شامل ہیں۔