مختلف شعبوں کا ٹیرف مرحلہ وار کم کرینگےشہبازشریف
جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ذریعے ایک خودکار، جدید اور مؤثر ٹیکس مینجمنٹ نظام حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے میں سنگِ میل ثابت ہوگا‘ایف بی آرمیں اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے گا
موسمیاتی تبدیلی تلخ حقیقت، اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں‘پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے،ماحولیاتی تحفظ قومی فریضہ، ہر شہری کو کردار ادا کرنا ہوگا:اجلاس میں گفتگو‘ عالمی یوم ماحولیات پر پیغام
اسلام آباد( آن لائن ) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں جاری اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس ہوا، جس میں ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، محصولات میں اضافے اور ٹیکس وصولی کے عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ان لینڈ ریونیو کی وصولیوں کو مزید مؤثر، شفاف اور فیس لیس بنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ٹیکس نظام کو خودکار، شفاف اور مؤثر بنایا جائے گا تاکہ انسانی مداخلت اور صوابدیدی اختیارات کو کم سے کم کیا جا سکے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ذریعے ایک خودکار، جدید اور مؤثر ٹیکس مینجمنٹ نظام حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس وصولی کے نظام میں انسانی مداخلت اور صوابدیدی اختیارات کو کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔وزیراعظم نے کہا اس منصوبے کے نفاذ سے نہ صرف محصولات میں اضافہ ہوگا بلکہ ٹیکس نظام میں شفافیت، انصاف اور عوامی اعتماد کو بھی فروغ ملے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ معیشت کی دستاویزی شکل اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے ایف بی آر اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے گا۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹیکس کا نیا مجوزہ نظام جائیدادوں، گاڑیوں اور بینکوں کے ڈیٹا کی مدد سے کم ظاہر کی گئی آمدن اور اثاثوں کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے ٹیکس چوری کی روک تھام اور محصولات میں اضافے میں مدد ملے گی‘دریں اثناء شہباز شریف نے عالمی یومِ ماحولیات 2026 کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر کر ارض کے تحفظ اور ماحول دوست مستقبل کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کرتا ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون اور مشترکہ اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والے خطرات واضح طور پر اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا کو جامع اور مربوط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔وزیراعظم نے کہا کہ تباہ کن سیلاب، طویل خشک سالی، شدید گرمی کی لہریں، گلیشیئرز کا پگھلاؤ، پانی کی قلت اور فضائی آلودگی اس بات کا ثبوت ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی محض ایک خدشہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے، جو دنیا بھر میں لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے