قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن کی عدم شرکت افسوسناک اور غیر سنجیدہ طرز عمل ہے‘ یہ ان قومی ذمہ داریوں سے منہ موڑنے کے مترادف ہے جو قوم کی مقدس امانت ہیں، دہشت گردی کے خلاف سب کو متحدہو کر آگے بڑھنا ہے
شہدا ء کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا،دہشت گردوں کا آخری حد تک پیچھا کرینگے، معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے، ملک میں امن و امان و سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا:وزیر اعظم کا قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں خطاب، آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا
اسلام آباد(آئی این پی )وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے دہشتگردی ملک کے لیے ناسور بن چکی ہے ، دہشت گردوں کا آخری حد تک پیچھا اور ملک کو ہرصورت دہشت گردی سے پاک کریں گے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم متحد ہے،ہمارے بہادر جوان ملک کی سلامتی کے لیے جانیں دے رہے ہیں ۔پارلیمنٹ ہائوس میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ابتدائی خطاب کے دوران وزیر اعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عسکری قیادت بالخصوص آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ دہشت گردی کی پاکستان کی سرزمین پر کوئی جگہ نہیں ہے، اور ہم ملک کو دہشت گردی سے پاک کر کے رہیں گے۔شہبازشریف نے کہا کہ سیاسی قیادت اختلافات ایک طرف رکھ کر قومی سلامتی پر ایک ہے، ملک میں دہشت گردی کو ہرصورت شکست دیں گے، اچھا ہوتا اگر اپوزیشن کے دوست بھی اہم اجلاس میں شرکت کرتے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلسل قربانیاں دے رہی ہیں، ملک کی سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں،ہمارے بہادر جوان ملک کی سلامتی کے لیے جانیں دے رہے ہیں۔ عسکری قیادت کا شکرگزار ہوں کہ پارلیمانی قیادت کو اعتماد میں لینے کے لئے یہاں ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے خاص طور پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی ملک کے لیے ناسور بن چکی ہے، شہدا اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں فراموش نہیں کر سکتے، اس کے خاتمے کے لیے پارلیمنٹ نے جو حکمت عملی اپنائی ہے، ہم اس پر عمل کرتے ہوئے آخری حد تک جائیں گے۔و زیراعظم نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم ایک ہے، اور ہم ہر صورت اس لعنت کو شکست دیں گے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملک کی معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے اور ملک میں امن و امان و سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا۔ سیاسی قیادت قومی سلامتی کے معاملے پر ایک ہے، اور ہم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر متحد ہیں