حملوں کا مقصد حماس پر یرغمالیوں کی رہائی کے لئے دبائو ڈالنا تھا:اسرائیلی وزیر اعظم آفس‘اسلامی ممالک احتجاج کریں:حماس
تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی تک حملے جاری رہیں گے: اسرائیلی سفیر‘ حملہ کرنے سے قبل صدر ٹرمپ سے مشاورت کی تھی:وائٹ ہائوس
غزہ،تل ابیب،واشنگٹن (آئی این پی )اسرائیلی فورسز کی جانب سے جنگ بندی ختم کرتے ہوئے ماہ رمضان میں غزہ کے مظلوم روزہ دار فلسطینی مسلمانوں پر بمباری کے نتیجے میں خواتین و بچوں سمیت 300 سے زائد فلسطینی شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے جبکہ اسرائیلی فوج نے زمینی حملے کی دھمکی بھی دیدی ہے ۔قطری نشریاتی ادارے کے مطابق صہیونی فورسز کی مسلسل بمباری کے بعد غزہ شہر مسلسل دھماکوں سے گونجتا رہا، اسرائیل نے حملہ ایسے وقت میں کیا جب لوگ گھروں، پناہ گزین کیمپوں اور اسکولوں کی عمارتوں میں سو رہے تھے۔حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ جنگ بندی معاہدے کو منسوخ کرنے کے لیے محصور اور بے سہارا شہریوں پر غدارانہ حملہ کیا۔فلسطینی اسلامی جہاد نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ 19 جنوری سے جاری جنگ بندی کو جان بوجھ کر سبوتاژ کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر کا کہنا ہے کہ تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی تک حملے جاری رہیں گے۔اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انہوں نے فوج کو غزہ میں حماس کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے اور اس گروپ پر قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کرنے اور جنگ بندی کے بارے میں اسرائیل کی تجاویز سے اتفاق نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اب سے حماس کے خلاف بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کے ساتھ کارروائی کرے گا۔ وائٹ ہائوس کی پریس سکریٹری کارولین لیویٹ کے مطابق اسرائیل نے غزہ پر تازہ ترین حملہ کرنے سے قبل صدر ٹرمپ سے مشاورت کی تھی۔