غزہ، جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی بمباری ، 39 فلسطینی شہید

 حماس کا جنگ بندی کی تجاویز پر غور، اسرائیل کا ساتھ نہ دینے پر ٹارگٹ کلنگ کا انکشاف 
  غزہ میں اب تک 66 ہزار 55 افراد شہید اور ایک لاکھ 68 ہزار 346 زخمی ہو چکے
 ہزاروں مزید افراد کے ملبے کے نیچے دبے ہونے کا خدشہ ، جنہیں مردہ تصور کیا جارہا ہے
غزہ (آئی این پی )اسرائیل نے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کا اعلان کرنے کے باوجود بمباری کرکے مزید 39 فلسطینیوں کو شہید کر دیا، دوسری جانب حماس ٹرمپ کی جنگ ختم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق غزہ کے نصیر ہسپتال کے ایک ذریعے نے بتایا کہ خان یونس میں بے گھر افراد کے ایک خیمے پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 3 افراد شہید ہوئے۔اسرائیلی افواج نے رات بھر غزہ کی پٹی پر حملے جاری رکھے، جب کہ غزہ شہر میں توپ خانے کی گولا باری اور النصیرات پناہ گزین کیمپ میں بھی بمباری کی اطلاع ہے، جس میں پانچ افراد زخمی ہوئے۔سفارتی ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ حماس کی مذاکراتی ٹیم امریکی صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا مطالعہ کر رہی ہے، جو اسرائیل کی غزہ پر جنگ کو ختم کرنے سے متعلق ہے۔اکتوبر 2023 سے اسرائیل کی غزہ پر جنگ میں اب تک کم از کم 66 ہزار 55 افراد شہید اور ایک لاکھ 68 ہزار 346 زخمی ہو چکے ہیں، ہزاروں مزید افراد ملبے کے نیچے دبے ہونے کا خدشہ ہے، جنہیں مردہ تصور کیا جارہا ہے۔