ملک میں حالیہ ہفتہ وار مہنگائی کی صورتحال کے حوالے سے ادارۂ شماریات نے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک میں مہنگائی میں مزید 0.46 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اس اضافے کے نتیجے میں ملک میں سالانہ مہنگائی کی مجموعی شرح 15.28 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔رپورٹ کے مطابق، اس ہفتے کے دوران 25 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جب کہ 11 اشیاء سستی ہوئیں اور 15 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ سب سے زیادہ مہنگائی کی شرح میں اضافہ ٹماٹر کی قیمت میں ہوا، جس میں 16.65 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ آلو کی قیمت میں 6.82 فیصد اور چکن کی قیمت میں 5.60 فیصد اضافہ بھی دیکھا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واشنگ سوپ کی قیمت میں 1.16 فیصد اور ایل پی جی کی قیمت میں 0.51 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب، بعض اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی ہے۔ مثلاً پیاز کی قیمت 2.98 فیصد کم ہوئی، لہسن کی قیمت میں 2.51 فیصد اور کیلے کی قیمت میں 1.28 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔اس کے علاوہ، پٹرول اور ڈیزل بھی سستا ہوئے ہیں، جن کی قیمتوں میں بالترتیب 0.52 فیصد اور 1.06 فیصد کمی آئی ہے۔ اسی طرح، دالوں اور آٹے کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، دودھ، دہی، مٹن اور انڈوں سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ جاری ہے، جو کہ مہنگائی کے بڑھنے کا ایک اہم سبب ہے۔ یہ صورتحال معاشی و اقتصادی حالات کے تناظر میں ملک میں روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے والی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی یہ صورتحال موجودہ معاشی چیلنجز کے تناظر میں قابو پانے کے لیے حکومتی اقدامات کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔