ادارہ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ جاری: 22 اشیائے ضروریہ مہنگی، مہنگائی کی ہفتہ وار شرح میں 0.38 فیصد اضافہ

ادارہ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ جاری: 22 اشیائے ضروریہ مہنگی، مہنگائی کی ہفتہ وار شرح میں 0.38 فیصد اضافہ

اسلام آباد: ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، 9 اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور 20 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مہنگائی کی شرح میں اضافہ:
ادارہ شماریات کے مطابق:ہفتہ وار بنیاد پر مہنگائی کی شرح میں 0.38 فیصد اضافہ ہوا۔تاہم، سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی مجموعی شرح منفی 1.61 فیصد رہی، جو ایک غیر معمولی رجحان ہے۔
قیمتوں میں اضافہ ہونے والی اشیاء:
رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے میں جن اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، ان میں شامل ہیں:

چکن: 8.31 فیصد اضافہ
انڈے: 5.87 فیصد اضافہ
ڈیزل: 4.15 فیصد اضافہ
پیٹرول: 2 فیصد اضافہ
لہسن: 1.70 فیصد اضافہ
قیمتوں میں کمی آنے والی اشیاء:
وہ اشیاء جن کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، ان میں شامل ہیں:

ٹماٹر
آٹا
چینی
کوکنگ آئل
ایل پی جی
ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ ان اشیاء کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی، جس سے صارفین کو جزوی ریلیف ملا۔

قیمتوں میں استحکام:
مزید 20 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کوئی نمایاں فرق نہیں آیا اور وہ پچھلے ہفتے کی سطح پر برقرار رہیں۔

تجزیہ:
ماہرین کے مطابق، مہنگائی میں ہفتہ وار اضافے کی ایک بڑی وجہ پیٹرولیم مصنوعات اور چکن جیسی روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔دوسری جانب آٹے، چینی اور ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی جزوی ریلیف ضرور ہے، تاہم مجموعی طور پر مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے۔

صارفین کا ردعمل:
عوامی حلقوں نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مہنگائی پر قابو پانے کے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔