ملک میں مہنگائی کا دباؤ بدستور برقرار ہے، جہاں ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 1.40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی مجموعی شرح بڑھ کر 13.09 فیصد ہو گئی ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار مہنگائی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے 27 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 4 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 20 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 4.40 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 4.41 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ایل پی جی کی قیمت میں سب سے زیادہ 12.46 فیصد اضافہ ہوا۔ادارہ شماریات کے مطابق روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء بھی مہنگی ہوئیں۔ ٹماٹر کی قیمت میں 22.79 فیصد جبکہ چکن کی قیمت میں 14.66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ آلو، پیاز، انڈے اور دیگر ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جس کے باعث عام شہریوں کے گھریلو اخراجات میں مزید اضافہ ہوا۔
دوسری جانب کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق کیلے کی قیمت میں 0.80 فیصد اور دال مونگ کی قیمت میں 0.70 فیصد کمی ہوئی، جبکہ چینی اور دال مسور بھی معمولی سستی ہوئیں۔وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق ہفتہ وار مہنگائی کی پیمائش کے لیے ملک بھر کی 17 شہری مارکیٹوں سے 51 ضروری اشیاء کی قیمتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات، توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مہنگائی کی شرح پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے، جبکہ عوام کو روزمرہ اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔