عالمی سطح پر قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہے اور سونے کی قیمتیں مسلسل تیسرے ہفتے تنزلی کے رجحان سے گزر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق امریکی مالیاتی پالیسیوں اور ڈالر کی مضبوطی نے سونے کی عالمی طلب کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔بین الاقوامی مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 1.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ 4,163.93 ڈالر فی اونس تک گر گئی۔ اسی طرح امریکی گولڈ فیوچرز بھی 1.5 فیصد کمی کے بعد 4,181.20 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں سونا مسلسل دباؤ میں ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ڈالر ایک سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے، جس کی وجہ سے دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے سونا خریدنا مہنگا ہو گیا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی طلب کو کمزور کیا ہے اور قیمتوں پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ عالمی سیاسی صورتحال، خصوصاً امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے اثرات وقتی ثابت ہوئے ہیں، جبکہ اب سرمایہ کار دوبارہ امریکی مالیاتی پالیسیوں اور شرح سود کے فیصلوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کے 19 پالیسی سازوں میں سے 9 نے رواں سال مزید شرح سود میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اس کے بعد مارکیٹ میں دسمبر میں شرح سود بڑھنے کے امکانات 87 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔ماہرین کے مطابق بلند شرح سود کا ماحول عام طور پر سونے کے لیے منفی سمجھا جاتا ہے کیونکہ سونا براہ راست منافع نہیں دیتا، جبکہ سرمایہ کار ایسے حالات میں زیادہ منافع دینے والے مالی اثاثوں کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔دوسری جانب عالمی سرمایہ کاری ادارے گولڈمین سیکس نے اپنی پیش گوئی میں نظرثانی کرتے ہوئے دسمبر کے لیے سونے کا نیا ہدف 4,900 ڈالر فی اونس مقرر کیا ہے، جو پہلے کے اندازوں سے کم ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکی ڈالر مزید مضبوط رہتا ہے اور شرح سود میں اضافہ جاری رہتا ہے تو آنے والے ہفتوں میں سونے کی عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہ سکتا ہے، اور قیمتوں پر دباؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔