ویب ڈیسک: عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں مسلسل اضافے کا رجحان جاری ہے، جس کے باعث فی اونس سونا نئی ریکارڈ سطح 3,388 امریکی ڈالر تک جا پہنچا ہے۔
یہ سونے کی تاریخ کی بلند ترین قیمت تصور کی جا رہی ہے۔
اہم نکات:
عالمی مارکیٹ میں نئی ریکارڈ سطح: سونے کی قیمت نے عالمی منڈی میں نیا سنگِ میل عبور کیا، جہاں فی اونس سونا 3,388 ڈالر پر پہنچ گیا۔سال کے آغاز سے اب تک کا اضافہ: یکم جنوری 2025ء کو عالمی سطح پر سونے کی قیمت 2,624.49 ڈالر فی اونس تھی، جس میں اب تک 753 ڈالر کا نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ڈالر کی گراوٹ: معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی قدر میں کمی ہے۔
اپریل 2022ء کے بعد سے اب تک ڈالر کی قدر اپنی کم ترین سطح پر آ چکی ہے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کار سونے کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر اپنا رہے ہیں۔سرمایہ کاری میں رجحان: معاشی غیر یقینی صورتحال، مہنگائی کے خدشات اور مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ کمی جیسے عوامل کی بنا پر سرمایہ کار سونے کی جانب رجوع کر رہے ہیں۔
تجزیہ:
ماہرین کے مطابق اگر عالمی معیشت میں غیر یقینی حالات برقرار رہے اور ڈالر مزید کمزور ہوا، تو سونے کی قیمت میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ، روس-یوکرین کشیدگی، اور دیگر جیو پولیٹیکل عوامل بھی قیمتی دھاتوں کی مانگ کو بڑھا سکتے ہیں۔
پاکستان پر اثرات:
پاکستان میں بھی سونے کی مقامی قیمت عالمی رجحانات کے زیر اثر ہے۔ روپے کی قدر میں کمی اور درآمدات پر انحصار کے باعث مقامی سطح پر سونا مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔