اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں استحکام، عوام کو ریلیف کی توقعات ماند پڑ گئیں

اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں استحکام، عوام کو ریلیف کی توقعات ماند پڑ گئیں

رمضان بازاروں کے قیام کے باوجود اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج برقرار ہے، جس سے عام صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

 مارکیٹ میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں کمی نہ آ سکی ہے، اور اس کا اثر عوام کی روزمرہ زندگی پر پڑ رہا ہے۔

خصوصاً درج ذیل اشیاء کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں:

درجہ اول گھی اور آئل: 590 سے 610 روپے فی کلوگرام
درجہ دوم گھی اور آئل: 520 سے 540 روپے فی کلوگرام
چائے کی پتی (800 گرام): 1750 سے 1900 روپے
شہریوں کا کہنا ہے کہ رمضان بازاروں میں محدود اشیاء اور لمبی قطاروں کے باعث زیادہ تر خریداری اوپن مارکیٹ سے کرنا پڑتی ہے، جہاں قیمتیں بدستور بلند ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے عوام کو روزمرہ ضروریات کی اشیاء خریدنے میں مشکلات کا سامنا ہے، اور مہنگائی کے سبب ان کی زندگی مشکل میں پڑ گئی ہے۔حکومت کی جانب سے بازاروں میں رعایتی نرخوں کی مہم اور دیگر اقدامات کے باوجود، صارفین کو معیاری اور سستی اشیاء کی فراہمی میں ابھی بہت بہتری کی ضرورت ہے۔ مہنگائی کا یہ رجحان عوام کی زندگی کو متاثر کر رہا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فوری طور پر قیمتوں میں کمی کے اقدامات کرے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔