امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط تاریخی پیشرفت ہے،حکومت کے ساتھ طے کیا ہے قومی دفاع کیلئے اپنا حصہ دیں گے‘صوبوں کا این ایف سی حصہ محفوظ ہے ‘آج تک صوبوں کو این ایف سی کے مطابق حصہ نہیں ملا
آئی ایم ایف پروگرام پورا کرنے کیلئے صوبے وفاق کو پیسے دے کر قربانی دے رہے ہیں،ہم سرپلس کی صورت میں پیسہ نہیں مانگ رہے، نہ وسائل مل رہے ہیں‘بی آئی ایس پی کو ٹارگٹ کرنا افسوسناک ہے، پروگرام کا دفاع کرتے رہیں گے
قبائلی علاقوں کو ٹیکس ریلیف 2026میں ختم ہورہا ہے،دہشتگردی کی صورت میں ہمیں نقصان پہنچایا جارہا ہے، مغربی سرحد پر چیلنجزہمارے سامنے ہیں،بھارت کی طرف سے آپریشن سندور ٹو کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں:قومی اسمبلی میں اظہار خیال
اسلام آباد(آئی این پی ) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط تاریخی پیشرفت ہے،وزیر اعظم ، صدرمملکت ،فیلڈمارشل اور مسلح افواج کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، حکومت کے ساتھ طے کیا ہے کہ قومی دفاع کیلئے اپنا حصہ دیں گے،این ایف سی ایوارڈ، مالی وسائل کو محفوظ رکھا گیا ہے، صوبوں کا این ایف سی حصہ محفوظ ہے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ امریکا ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط تاریخی پیشرفت ہے،خطے میں قیام امن پر وزیراعظم اور صدر مملکت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،فیلڈمارشل عاصم منیر اور مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،ہم نے دہشتگردی کا مقابلہ کیا ہے،ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کا مطالبہ کیا، جب امن ہوتا ہے تو ملک ترقی کرتا ہے،ایسے عناصر موجود ہیں جو امن کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں،مغربی سرحد پر چیلنجزہمارے سامنے ہیں،بھارت کی طرف سے آپریشن سندور ٹو کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ حکومت کے ساتھ طے کیا ہے کہ قومی دفاع کیلئے اپنا حصہ دیں گے،این ایف سی ایوارڈ، مالی وسائل کو محفوظ رکھا گیا ہے، صوبوں کا این ایف سی حصہ محفوظ ہے۔وفاق کو معاشی مشکلات ہیں تو صوبوں کو بھی معاشی مشکلات ہیں،18ویں ترمیم کے باوجود کسی صوبے کو اپنا شیئر نہیں دیا گیا،ان کاکہنا تھاکہ صوبائی حکومتوں نے بار بار قربانی دی، آج بھی دے رہے ہیں،حکومت کے ساتھ ملکر مختلف مسائل کا آئینی حل نکالا،آج تک صوبوں کو این ایف سی کے مطابق حصہ نہیں ملا، آئی ایم ایف پروگرام پورا کرنے کیلئے صوبے وفاق کو پیسے دے کر قربانی دے رہے ہیں،ہم سرپلس کی صورت میں پیسہ نہیں مانگ رہے، نہ وسائل مل رہے ہیں،قبائلی علاقوں کو ٹیکس ریلیف 2026میں ختم ہورہا ہے۔دہشتگردی کی صورت میں ہمیں نقصان پہنچایا جارہا ہے،