امن کیلئے صدر ٹرمپ، ایرانی قیادت اور مذاکراتی ٹیموں کی کوششوں کو سراہتاہوں، فیلڈمارشل کی کوششیں اہم پیش رفت اور خطے میں امن و استحکام کیلئے نہایت اہم ثابت ہوئیں:وزیر اعظم

امریکہ‘ایران معاہدہ شہبازشریف کے بطور ثالث دستخط  مذاکرات  آج  سوئٹزر لینڈ میں  ہونگے ، وزیراعظم کاد ورہ منسوخ
 مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر اور ایران کے صدر  کے دستخط موجود ہیں ‘ دونوں کے درمیان ایم او یو پر دستخط کی تقریب الیکٹرانک طور پر منعقد ہونے کے باعث شہبازشریف کا دورہ منسوخ کیا گیا:سفارتی ذرائع  
وزیراعظم  اور ایرانی صدر کا ٹیلیفونک رابطہ، امن معاہدے کا خیرمقدم‘پاکستان ایران کے ساتھ ہر شعبے میں تعاون جاری رکھے گا: شہباز شریف‘ایرانی صدر نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل  کا خصوصی شکریہ ادا کیا
اسلام آباد(آئی این پی‘آن لائن ) وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پربطور ثالث دستخط کردئیے۔ وزیراعظم ہائوس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہیکہ وزیراعظم شہبازشریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پربطور ثالث دستخط کردئیے ۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آبادمفاہمتی یادداشت پر امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں۔ ۔وزیراعظم شہباز شریف نے ا یکس پر جاری بیان میں  کہا کہ اس تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دونوں ممالک کے معزز صدور نے دستخط کئے ہیں  جبکہ بطور ثالث انہوں نے بھی اس کی توثیق کی ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی واضح علامت ہے کہ دونوں فریقین تنازع کے حل کئے ہیں  سفارتی راستہ اختیار کرنے کیلئے   سنجیدہ ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا ایران معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے اور ابتدائی قدم کے طور پر ایران نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے جبکہ امریکا نے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ  ٹرمپ کی قیادت اور سفارتکاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی امن کیلئے  وابستگی نے ایک ممکنہ تباہ کن تنازع کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم بشمول جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔وزیراعظم نے ایران کی اعلی قیادت بشمول آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کی بصیرت اور دانشمندی کو سراہتے ہوئے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے اراکین محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی کی خدمات کو بھی اہم قرار دیا۔انہوں نے قطر کی قیادت کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے کردار کو بھی اس پیش رفت میں انتہائی اہم اور تعمیری قرار دیا۔وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خصوصی طور پر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششیں اس اہم پیش رفت اور خطے میں امن و استحکام کے لئے  نہایت اہم ثابت ہوئیں‘دریں اثناء وزیر اعظم شہباز شریف نے سوئٹزرلینڈ کا دورہ منسوخ کردیا۔ میڈیا رپورٹس  کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کو  جمعرات کو  سوئٹزرلینڈ روانہ ہونا تھا، ایران امریکا معاہدے کے مطابق ابتدائی مذاکرات  آج برگن اسٹاک ریزورٹ میں ہوں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف   جمعرات کی  رات سوئٹزرلینڈ روانہ ہورہے تھے تاہم ایران اور امریکا کے درمیان ایم او یو پر دستخط کی تقریب الیکٹرانک طور پر منعقد ہونے کے باعث دورہ منسوخ کیا گیا۔جنیوا میں ہونے والی مفاہمتی یاداشت کی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت ضروری نہیں رہی ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے الیکٹرانک دستخط کیے جانے کے بعد سوئٹزرلینڈ میں مجوزہ ملاقات بھی منسوخ کر دی گئی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور حالیہ امن معاہدے کے بعد تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔وزیراعظم شہباز شریف کو ایرانی صدر کی جانب سے کی گئی یہ ٹیلیفون کال تیس منٹ سے زائد جاری رہی اور اسلام آباد امن معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلا باضابطہ رابطہ تھا۔وزیراعظم نے صدر پزشکیان، ایرانی قیادت اور برادر عوامِ ایران کو تاریخی امن معاہدے پر دستخط کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے ساتھ ساتھ ایران کی تعمیرِ نو اور پاکستان و ایران کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کا سبب بنے گی۔ انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے لیے بھی نیک تمناؤں اور احترام کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے امن معاہدے کے حوالے سے ایرانی قیادت کے فیصلے کو سراہتے ہوئے مذاکرات کے آئندہ مراحل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک برادر اور ہمسایہ ملک کی حیثیت سے ایران کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔صدر مسعود پزشکیان نے ایرانی قوم کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور سید عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں شخصیات نے دانشمندی، اخلاص اور مؤثر سفارتکاری کے ذریعے ثالثی کے عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران مشکل وقت میں پاکستان کی مثبت اور مخلصانہ حمایت کو ہمیشہ یاد رکھے گا۔ایرانی صدر نے پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی سہولت کے مطابق جلد ایک دوسرے کے دارالحکومتوں کے دورے کرنے پر اتفاق کیا تاکہ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی مسلسل رابطے میں رہنے اور مشترکہ مفادات کے امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔