امریکہ‘ایران مذاکرات‘میزبانی کیلئے تیار ہیں شہبازشریف
جنگ کے خاتمے کے لئے بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات ضروری ہیں، پاکستان اس سلسلے میں کسی بھی فریق کے ساتھ جامع حل کے حصول کیلئے مذاکرات کی سہولت کاری کو اعزاز سمجھے گا:وزیراعظم کا ایکس پر بیان
وزیراعظم کی زیرصدارت اعلی سطح کا اجلاس‘ عسکری قیادت، وفاقی وزرا ء کی شرکت‘ ایران امریکہ جنگ ختم کرانے کے لئے پاکستانی کی سفارتی کاوشوں اور پاکستان میں مذاکرات کی میزبانی پر غور کیا گیا
اسلام آباد( بیورو رپورٹ‘ایجنسیاں ) وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے پاکستان خطے میں جنگ کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔وزیراعظم نے واضح کیا جنگ کے خاتمے کے لیے بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات ضروری ہیں، اور پاکستان اس سلسلے میں کسی بھی فریق کے ساتھ جامع حل کے حصول کے لیے مذاکرات کی سہولت کاری کو اعزاز سمجھے گا۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کی رضامندی کے ساتھ مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے تاکہ خطے میں دیرپا امن کے لیے عملی اقدامات کیے جا سکیں۔وزیراعظم نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے لیے کوششوں میں پاکستان کے کردار کی حمایت کرے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ٹرمپ، وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو پیغام ٹیگ کردیا۔دریں اثناء وزیراعظم شہبازشریف نے متعلقہ حکام کو ایران اور امریکا مذاکرات کی ممکنہ میزبانی کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایات کردی۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت اعلی سطح کا اجلاس ہوا،جس میں اعلی عسکری قیادت، وفاقی وزرا نے شرکت کیں۔ ایران امریکا جنگ ختم کرانے کے لئے پاکستانی کی سفارتی کاوشوں اور پاکستان میں مذاکرات کی میزبانی پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں خلیجی جنگ کے تصفیے کے لیے پاکستان میں مذاکرات کی میزبانی پر بھی غور کیا گیا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے شرکا کو پاکستان کی اب تک کی سفارتی کاوشوں پر بریفنگ دی۔ اسحاق ڈار نے مصر، ترکیہ اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطوں پر بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کیلیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، فریقین کے رضامند ہونے کی صورت میں پاکستان میزبانی کے لیے تیار ہے،وزیراعظم، عالمی سطح پر تنازع کے حل کیلئے پاکستان کا کردار تسلیم کرنا خوش آئند ہے۔