ویب ڈیسک: ایران کے اسرائیل پر تازہ میزائل حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایران پر سروکا اسپتال اور شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت انتقامی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
نیتن یاہو کا غصے بھرا ردعمل:
وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک سخت بیان میں کہا:"ایران کے جابر حکمرانوں کو اسپتال پر حملے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔"انہوں نے دعویٰ کیا کہ:"ایرانی میزائلوں نے سروکا اسپتال اور وسطی اسرائیل کی شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔"
سروکا اسپتال پر براہ راست حملہ:
اسرائیلی فوج کے مطابق:"جنوبی اسرائیل میں واقع سروکا میڈیکل سینٹر کو ایک ایرانی میزائل نے براہ راست نشانہ بنایا۔"اسپتال کے ترجمان نے بتایا:"میزائل سے اسپتال کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا، متعدد وارڈز متاثر ہوئے اور 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔"
ایرانی حملے کی وسعت:
اسرائیلی میڈیا کے مطابق:حملہ پچھلے حملوں سے کہیں زیادہ وسیع اور خطرناک تھا۔کم از کم 6 مختلف علاقوں میں میزائل گرے۔متعدد عمارتیں تباہ ہوئیں، کچھ مقامات پر لوگ ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ایران کا مؤقف:
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے:"ہم نے اسرائیلی فوجی کمانڈ، انٹیلی جنس ہیڈکوارٹرز اور فوجی کیمپس کو نشانہ بنایا۔"ایران نے اسپتال یا شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے الزام کی واضح تردید کی ہے۔
خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ:
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ:"اگر اسرائیل نے ایران پر براہ راست جوابی حملہ کیا تو یہ ایک مکمل جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔"اقوام متحدہ اور بڑی عالمی طاقتیں فوری جنگ بندی کی اپیلیں کر رہی ہیں۔
پس منظر:
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب ایران نے اپنے ایک اعلیٰ جنرل کی ہلاکت کے بعد جوابی کارروائیوں کا اعلان کیا تھا۔ایران مسلسل دعویٰ کر رہا ہے کہ اس کی کارروائیاں فوجی اہداف تک محدود ہیں، جبکہ اسرائیل شہری اہداف پر حملوں کا الزام لگا رہا ہے۔
خلاصہ:
ایران کے تازہ میزائل حملوں اور اسرائیل کی جانب سے سخت ردعمل نے خطے میں جنگ کا خطرہ مزید بڑھا دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے الزامات اور جوابی بیانات نے صورتحال کو نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں ایک بھی غیر محتاط قدم خطے میں بڑے پیمانے پر تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔