جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی کارروائی اور گولہ باری کے نتیجے میں شدید جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ خطے میں پہلے سے جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حملوں کے بعد صور کے علاقے میں ایک عمارت کے ملبے سے دو زخمی افراد کو نکالا گیا ہے، جبکہ مروانیہ کے علاقے میں ایک پورے خاندان کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملوں کے دوران متعدد رہائشی علاقے نشانہ بنے، جس سے شہری آبادی شدید متاثر ہوئی۔یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان گفتگو کے بعد اسرائیل اور حزب اللّٰہ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی سے متعلق بیانات گردش میں تھے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا گیا ہے اور بیروت میں کسی زمینی کارروائی کے لیے فوج نہیں بھیجی جائے گی، جبکہ راستے میں موجود دستے بھی واپس بلا لیے گئے ہیں۔تاہم اس کے برعکس زمینی صورتحال میں جنوبی لبنان پر حملے جاری رہے، جس کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔ بیروت کے نواحی علاقے ضاحیہ پر ممکنہ بمباری کی دھمکیوں کے بعد ایران کی جانب سے امریکا سے رابطے معطل کرنے کے اعلانات بھی سامنے آئے، جس نے خطے کی سفارتی صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو انتہائی سخت لہجے میں ہوئی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے اسرائیلی کارروائیوں پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں “ناشکرا” اور “پاگل” جیسے الفاظ سے مخاطب کیا۔رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ اگر بیروت پر بڑے حملے کیے گئے تو اسرائیل عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔ جواب میں اسرائیلی وزیرِاعظم مبینہ طور پر مختصر اور محتاط انداز میں گفتگو کرتے رہے۔یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دوسری بار صدارت سنبھالنے کے بعد یہ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیرِاعظم کے درمیان ہونے والی سب سے سخت اور غیر معمولی ٹیلیفونک گفتگو تھی۔خطے کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ عالمی طاقتوں کی جانب سے بھی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔