نیتن یاہو کا ایران پر ایٹم بم بنانے کا الزام، امریکا کی اجازت کے بغیر حملے کا عندیہ

نیتن یاہو کا ایران پر ایٹم بم بنانے کا الزام، امریکا کی اجازت کے بغیر حملے کا عندیہ

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ایک بار پھر جوہری بم تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس پیش رفت سے اسرائیل کے وجود کو خطرہ لاحق ہے۔

 انہوں نے عندیہ دیا کہ ضرورت پڑنے پر اسرائیل امریکا سے پیشگی اجازت لیے بغیر بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے اسرائیلی فوجی افسران کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دوبارہ ایٹم بم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کو اپنے ملک کے لیے وجودی خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ایران میں حکومت کی تبدیلی ضروری ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی فوج اور خفیہ اداروں کو اسی سمت میں کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ باقی کام مکمل کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم ان کے بقول یہ عمل اسرائیل کی مدد سے ہی آگے بڑھایا جائے گا۔ ان کے بیان سے ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات اور امریکا اسرائیل تعاون کے حوالے سے نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے ان خبروں کی بھی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتوبر کے آغاز میں اسرائیل کو ایران پر حملے کرنے سے روک دیا تھا۔ نیتن یاہو کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل ایران کے معاملے پر اپنے فوجی اختیارات برقرار رکھنے پر زور دے رہا ہے۔دوسری جانب ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق نیتن یاہو کے دعووں کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ رپورٹ میں موجود نہیں۔ اس لیے ایران کی جانب سے دوبارہ جوہری بم بنانے کے فیصلے سے متعلق بیان کو اسرائیلی وزیراعظم کا دعویٰ ہی سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ تصدیق شدہ حقیقت۔ایران کے جوہری پروگرام اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ یکطرفہ فوجی کارروائی کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی خطے کی سلامتی کے لیے اہم سوالات پیدا کرتی ہے۔ اگر اسرائیل ایران کے خلاف مزید کارروائی کرتا ہے تو اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اور امریکا کے علاقائی کردار پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔