حلفاً کہتا ہوں بجٹ کتابیں ایک فیصد بھی نہیں پڑھیں اوریہاں ارسطو بن کر تقریر کرتے ہیں،رکن قومی اسمبلی میںاظہارخیال
اسلام آباد(آن لائن) بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر دنیش کمار نے کہاکہ بجٹ پر ایوان میں مخالف تقاریر کرکے فکس میچ کھیلتے ہیں اور ووٹ بھی حکومت کو دیتے ہیں۔بدھ کو ایوان بالا میں بجٹ کے حوالے سے ہم اپنی سفارشات بھیجتے ہیں مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم حکومت کو چاہتے اور نا چاہتے ہوئے بھی ووٹ دیتے ہیں اور ہم ایوان میں فکس میچ کھیلتے ہیں ۔ حلفیہ کہتا ہوں کہ ان کتابوں کو جو ہمیں دی جاتی ہیں ایک فیصد بھی نہیں پڑھی ہیں پھر یہاں پر ارسطو بن کر بجٹ پر تقریر کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ بجٹ کا 50فیصد حصہ سود کی ادائیگی پر خرچ ہوگا جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کے مترادف ہے پھر کہتے ہیں کہ پاکستان کیسے ترقی کرے گا، ہم آئی ایم ایف کے قرضے پر خوش ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہندو مذہب میں ایک طبقہ بنیا ہوتا ہے جو سود لیتا ہے اور ہم اس کو بہت برا سمجھتے ہیں ، سود صرف اسلام میں حرام نہیں دیگر مذاہب میں بھی حرام ہے، بنیا کسی کو سود دیکر برباد کرتا ہے اور یہی کام آئی ایم ایف ہمارے ساتھ کر رہا ہے ،ہم سود پرلئے گئے پیسے اپنی عیاشیوں پر اڑا لیتے ہیں اور سود کی وجہ سے ہم بلیک میل ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بجٹ میں اقلیتوں کیلئے کوئی بھی فنڈز مختص نہیں کئے گئے ہیں۔