لائیو سٹاک اور زراعت مردہ گھوڑے بہتری کیلئے چین سے مدد مانگی ہے: شہباز شریف
ماضی میں زراعت اور لائیو سٹاک کے حوالے سے ادارے قائم کئے گئے جو اقربا پروری کی نذر ہوگئے‘ وفاق اور صوبوں کو مل کر طویل سفر طے کرنا اور محنت کرنا ہوگی‘ باتوں سے آگے بڑھ کر عمل کی طرف بڑھنا ہوگا:سیمینار سے خطاب
ایف بی آر کاروباری طبقے کے ساتھ تعاون اور ان کے جائز مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے ‘ٹیکس قوانین کی پابندی کرنے والی کمپنیوں کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی اور ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے گا:اجلاس میں گفتگو
مون سون بارشوں کے دوران صوبائی حکومتوں اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ رابطے مزید بہتر بنائے جائیں: چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کوہدایت‘ اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل کی ملاقات
اسلام آباد(ایجنسیاں‘مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے لائیو سٹاک اور زراعت کے شعبے میں جدید تربیت کے لئے اس سال بھی مزید ایک ہزار طالب علموں کو حکومتی خرچ پر چین بھیجا جائے گا۔اسلام آباد میں منعقدہ لائیو اسٹاک کی استعداد سے متعلق قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ملکی لائیو اسٹاک کے شعبے سے متعلق سیمینار کا انعقاد خوش آئند ہے جس پر منتظمین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا ہمارے کسان چاروں صوبوں، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر میں دن رات محنت کرتے اور ملکی ترقی میں حصہ ڈال رہے ہیں مگر جدید آلات اور ٹیکنالوجی نہ ہونے کی وجہ سے خطے میں دوسرے ممالک سے بہت پیچھے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو اللہ نے بے شمار وسائل سے نوازا ہے، دودھ کی زیادہ پیداوار کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک ہے جبکہ گوشت میں ہمارا پوٹینشنل موجود ہے۔شہباز شریف نے کہا ماضی میں زراعت اور لائیو اسٹاک کے حوالے سے پاکستان میں ادارے قائم کیے گئے مگر وہ اقربا پروری کی نذر ہوئے اور آج مردہ گھوڑے بن چکے ہیں۔وزیراعظم نے کہا وفاق اور صوبوں کو مل کر طویل سفر طے کرنا اور محنت کرنا ہوگی۔ ہمیں باتوں سے ا?گے بڑھ کر عمل کی طرف تیزی سے بڑھنا ہوگا۔زراعت اور لائیو اسٹاک پر ایک سال محنت کی جائے تو معیشت میں بہت بہتری ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ لائیو اسٹاک کے کام سے وابستہ لوگوں نے ایک بیماری کا ذکر کیا جس کی ویکسین پاکستان میں نہیں مگر اب میں اعلان کرتا ہوں کہ ویکسین کیلیے جو بھی چاہیے حکومت اْس کی فنڈنگ کرے گی مگر اس شعبے کو آؤٹ سورس کریں گے تاکہ ماضی کے اداروں کی طرح کا حال نہیں ہوجائے۔دریں اثناء شہباز شریف نے کہا ہے ایف بی آر کاروباری طبقے کے ساتھ تعاون اور ان کے جائز مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے، ٹیکس قوانین کی پابندی کرنے والی کمپنیوں کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی اور ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے گا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایف بی آر اصلاحات پر جائزہ اجلاس ہواجس میں جاری اصلاحات اور ٹیکس نظام میں بہتری پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے، رواں سال معاشی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا سال ہوگا۔کاروباری برادری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، انہیں زیادہ پیداوار اور برآمدات کے فروغ کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایف بی آر کاروباری طبقے کے ساتھ تعاون اور ان کے جائز مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے،وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے ملاقات کی۔وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے مون سون بارشوں کے دوران صوبائی حکومتوں اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ روابط مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ علاوہ ازیں وزیراعظم محمد شہبازشریف سے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے انسانی امور و ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر، ٹام فلیچر نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ٹام فلیچر نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے وزیراعظم کی کوششوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ پائیدار امن ہی جنگوں سے پیدا ہونے والے انسانی اور معاشی بحرانوں سے مؤثر طور پر نمٹنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے