لاہور کے علاقے کاہنہ میں باپ اور دو بیٹوں کے اندوہناک قتل کا معمہ پولیس نے حل کر لیا ہے، جبکہ واردات میں ملوث ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق انچارج انویسٹی گیشن تھانہ کاہنہ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ کامیاب کارروائی کرتے ہوئے قتل میں ملوث مرکزی ملزم اور اس کی ساتھی خاتون کو حراست میں لے لیا۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان اور مقتولین کے درمیان لین دین کا تنازع چل رہا تھا، جو اس سنگین واردات کی بنیادی وجہ بنا۔ایس پی انویسٹی گیشن شاہد نواز وڑائچ کے مطابق مرکزی ملزم محکمہ صحت میں پولیو بلاک انچارج کے عہدے پر تعینات ہے، جبکہ گرفتار خاتون ملزمہ بھی پولیو ورکر کے طور پر فرائض انجام دے رہی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان نے باہمی منصوبہ بندی کے تحت واردات کو انجام دیا۔تحقیقات کے مطابق ملزمان نے بزرگ شہری نعمان اور اس کے دو بیٹوں عمران اور کامران کو جوس پلایا، جس میں نشہ آور گولیاں شامل کی گئی تھیں۔ جوس پینے کے بعد تینوں افراد بے ہوش ہو گئے، جس کے بعد ملزمان نے گلا دبا کر باپ اور دونوں بیٹوں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔
پولیس نے مزید بتایا کہ قتل کے بعد ملزمان نے مقتولین کے موبائل فون استعمال کرتے ہوئے موبائل بینکنگ ایپس کے ذریعے تقریباً 30 لاکھ روپے اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کر لیے، تاکہ مالی فائدہ حاصل کیا جا سکے اور شواہد مٹائے جا سکیں۔ایس پی انویسٹی گیشن کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ آلہ قتل، نشہ آور گولیاں اور دیگر شواہد بھی برآمد کر لیے گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مضبوط چالان مرتب کیا جائے گا تاکہ انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دلائی جا سکے۔