کراچی: گل پلازہ سانحے کے بعد وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ریسکیو اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری ہیں اور صوبائی انتظامیہ کا پورا نظام ہر وقت مصروف عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح متاثرہ افراد کو بحفاظت ریسکیو کرنا ہے۔وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی کو واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے تاکہ آگ لگنے کی وجہ اور ذمہ داری واضح ہو سکے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ عوامی املاک میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موثر انتظامات ناگزیر ہیں، فائربریگیڈ کی گاڑیاں مسلسل موقع پر موجود تھیں اور ریسکیو آپریشن بغیر کسی وقفے کے جاری رہا۔ اس دوران ایک ریسکیو اہلکار شہید بھی ہوا، جو ادارے کی کمٹمنٹ اور جانفشانی کا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ بے بنیاد الزام تراشی کرنے والے عناصر کو ایسے نازک لمحات میں ہوش سے کام لینا چاہیے کیونکہ الزام تراشی مسائل کا حل نہیں، بلکہ سب کو امدادی سرگرمیوں میں تعاون کرنا چاہیے۔
شرجیل میمن نے بتایا کہ آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم کولنگ کا عمل ابھی جاری ہے اور عمارت کے اندرونی حالات کے بارے میں قبل از وقت کچھ کہنا مناسب نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سانحہ میں جو قیمتی جانیں ضائع ہوئیں ان کا کوئی نعم البدل نہیں، حکومت تاجروں کے نقصان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ نقصانات کے حتمی اعداد و شمار تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔