یہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور لرزہ خیز ہے۔ ایک کم عمر لڑکے کا اپنے ہی والد کو قتل کرنے کا واقعہ خاندان اور معاشرے کے لیے کئی سوالات چھوڑ دیتا ہے۔
اس واقعے کی بنیادی وجہ والد اور بیٹے کے درمیان پیدا ہونے والا شدید تنازعہ تھا، جس کا آغاز چوری کے شبہ پر کیے گئے والد کے ڈانٹنے سے ہوا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، 14 سالہ لڑکے نے اشتعال میں آ کر اپنے والد پر آتش گیر مادہ چھڑک کر آگ لگا دی۔واقعے کے وقت مکان مالک ریاض الدین نے علیم کی چیخیں سنیں اور دروازہ توڑنے کی کوشش کی، لیکن جب تک وہ اندر پہنچے، علیم شدید جھلس چکا تھا اور موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ دوسری جانب، لڑکا وہاں سے فرار ہو گیا، تاہم پولیس نے جلد ہی اسے گرفتار کر لیا۔محمد علیم کا تعلق اتر پردیش کے ضلع مرزاپور سے تھا اور وہ ستمبر 2024 میں اپنے بیٹے کے ساتھ فرید آباد منتقل ہوا تھا۔ وہ مساجد کے لیے چندہ اکٹھا کرنے اور ہفتہ وار بازار میں مچھر دانیاں بیچنے کا کام کرتا تھا۔
علیم کی بیوی کئی سال قبل انتقال کر چکی تھی، اور اس کے باقی چار بچے شادی شدہ ہو کر علیحدہ رہ رہے تھے۔یہ واقعہ ایک ایسے مسئلے کو اجاگر کرتا ہے جس میں والدین اور بچوں کے درمیان تعلقات اور ان کے جذباتی و نفسیاتی پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے کہ آیا لڑکے نے یہ انتہائی قدم کسی کے اکسانے پر اٹھایا یا یہ محض غصے اور جذبات کے قابو سے باہر ہونے کا نتیجہ تھا۔