گوئٹے مالا: زلزلے سے متاثرہ علاقے میں چوری کی کوشش، 5 افراد کو مشتعل ہجوم نے زندہ جلا دیا

گوئٹے مالا: زلزلے سے متاثرہ علاقے میں چوری کی کوشش، 5 افراد کو مشتعل ہجوم نے زندہ جلا دیا

گوئٹے مالا کے زلزلہ زدہ علاقے سانتا ماریا دی جیسس میں انسانی المیہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب چند افراد زلزلے کے بعد خالی گھروں میں چوری کی نیت سے داخل ہوئے اور مقامی شہریوں کے ہاتھوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

واقعے کی تفصیلات:
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ علاقہ حالیہ زلزلے میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ زلزلے کے بعد درجنوں خاندان اپنے تباہ شدہ گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات یا رشتہ داروں کے ہاں منتقل ہوچکے تھے۔پولیس کے ترجمان کے مطابق کچھ افراد نے اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رات کے اندھیرے میں خالی گھروں میں گھس کر چوری کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، مقامی مکینوں نے پانچ افراد کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔

ہجوم کا ردعمل:
مشتعل ہجوم نے ان پانچ افراد کو موقع پر ہی لاٹھیوں، ڈنڈوں اور پتھروں سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا، اور بعدازاں ان پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی، جس سے تمام افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

حکام کا مؤقف:
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ اگرچہ چوری ایک سنگین جرم ہے، لیکن قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا اور ہجوم کا اس قدر وحشیانہ ردعمل دینا ناقابل قبول اور خود ایک مجرمانہ عمل ہے۔وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق واقعے میں شامل مشتعل افراد کی شناخت کرلی گئی ہے، تاہم جب پولیس انہیں گرفتار کرنے پہنچی تو مقامی شہریوں نے مزاحمت کرتے ہوئے کارروائی سے روک دیا۔

پس منظر:
گوئٹے مالا میں ہجوم کے ہاتھوں تشدد اور قتل کوئی نئی بات نہیں۔ 2008 سے 2020 کے درمیان ایسے 361 افراد ہلاک اور 1,396 زخمی ہوچکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کی کمی، نظام انصاف میں تاخیر، اور جرائم کی شرح نے عوام کو اکثر قانون اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور کیا ہے۔