گراہم سٹینز کا 26 سال قبل بہیمانہ قتل، کوڑھ کے مریضوں کا مفت علاج کرنے والے مشنری کو زندہ جلا دیا گیا تھا

گراہم سٹینز کا 26 سال قبل بہیمانہ قتل، کوڑھ کے مریضوں کا مفت علاج کرنے والے مشنری کو زندہ جلا دیا گیا تھا

گراہم سٹینز کا بہیمانہ قتل بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی نشاندہی کرتا ہے

22 جنوری 1999 کو بھارت کے اڑیسہ میں کوڑھ کے مریضوں کے مفت علاج کرنے والے مشنری گراہم سٹینز کو انتہا پسند ہندوؤں نے اپنے بیٹوں سمیت زندہ جلا ڈالا تھا۔ اس دردناک واقعہ کا 26 سال مکمل ہوگئے ہیں، جس میں گراہم سٹینز کے دو بیٹے بھی شامل تھے، جن کی عمریں صرف 10 اور 6 سال تھیں۔ ان کا قتل "بجرنگ دل" کے انتہا پسند ہندو تنظیم کے 100 غنڈوں نے کیا تھا۔گراہم سٹینز 1965 سے 1999 تک بھارت میں کوڑھ کے مریضوں کا مفت علاج کرتے رہے، اور ان کے قتل کے بعد بھارتی حکومت کے کمیشن نے دارا سنگھ کو الزام قرار دیا تھا۔ تاہم بھارتی سپریم کورٹ نے 2011 میں گراہم سٹینز کے قاتلوں کو باعزت بری کر دیا۔

رپورٹس کے مطابق 2023 میں بھارت میں عیسائیوں کے خلاف 733 حملے ریکارڈ ہوئے، اور 2024 کے آغاز میں اس میں مزید اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے مطابق عیسائیوں پر تشدد کے 834 واقعات سامنے آئے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق ہر 12 منٹ میں ایک عیسائی پر تشدد کا واقعہ پیش آتا ہے، اور بھارت میں عیسائیوں کے خلاف تشدد میں اضافہ دکھائی دیتا ہے۔اوپن ڈورز آرگنائزیشن کے مطابق بھارت عیسائیوں کے خلاف تشدد کے لحاظ سے 2014 میں 28ویں نمبر سے 2022 میں 10ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ یہ حالات بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور مذہبی عدم برداشت کی نشاندہی کرتے ہیں۔