مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے، اور تازہ ترین واقعہ ضلع کولگام میں پیش آیا، جہاں بھارتی فوج نے پانچ کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، یہ نوجوان ایک جعلی مقابلے کا نشانہ بنے، جب بھارتی فوج نے علاقے میں محاصرہ اور تلاشی کی کارروائی شروع کی تھی۔مقامی ذرائع کے مطابق، بھارتی فوج نے علاقے میں کشمیری نوجوانوں کو گھیر کر ان پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پانچ نوجوان شہید ہو گئے۔ ان نوجوانوں کا تعلق مختلف علاقوں سے تھا اور انہیں بھارتی فوج نے مبینہ طور پر دہشت گرد قرار دیتے ہوئے قتل کیا۔کشمیر میں بھارتی فوج کی اس طرح کی کارروائیاں نئے نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک تسلسل ہیں جو بھارتی فورسز کی طرف سے کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد کو کچلنے کے لیے انجام دی جاتی ہیں۔
ان کارروائیوں کے دوران شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا جاتا ہے اور بے گناہ افراد کو دہشت گرد قرار دے کر قتل کیا جاتا ہے۔مقامی کشمیری رہنماؤں اور سیاسی جماعتوں نے اس قتل عام کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کا یہ اقدام بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور بھارت کی جانب سے کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی کو روکنے کے لیے عالمی برادری کو فوری اقدام کرنا چاہیے۔
مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ برسوں سے بھارتی فوج کے خلاف عوامی احتجاج اور آزادی کی تحریک شدت اختیار کر چکی ہے، اور بھارتی حکومت کشمیری عوام کی آواز کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال بڑھا رہی ہے۔ اس کے باوجود کشمیری عوام اپنے حقوق کے لیے جدو جہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔