مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی عروج پر، حراست کے بعد مزید کشمیری شہید

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی عروج پر، حراست کے بعد مزید کشمیری شہید

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مختلف اضلاع میں روزانہ بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہیں، نوجوانوں کو جبری طور پر حراست میں لیا جارہا ہے اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں تیزی آچکی ہے۔بانڈی پورہ ضلع کے حاجن علاقے میں تین بچوں کے والد فردوس احمد میر کو 11 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں دورانِ حراست بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں ان کی لاش دریائے جہلم سے برآمد ہوئی۔ فردوس احمد کے قتل کے خلاف حاجن میں عوامی احتجاج پھوٹ پڑا جہاں لوگوں نے متاثرہ خاندان کو انصاف دینے اور بھارتی فوجیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ یہ واقعہ گزشتہ دو ہفتوں میں بانڈی پورہ میں دوسرا ماورائے عدالت قتل ہے۔ اس سے قبل زہور احمد صوفی پولیس حراست میں شہید ہوئے تھے، جن کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گردوں کے پھٹنے اور بدترین تشدد کی تصدیق ہوئی تھی۔عوامی ردعمل کو دبانے کے لیے بانڈی پورہ میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ ادھر ڈوڈہ ضلع کے رکن اسمبلی معراج ملک کو سیلاب متاثرین کے حق میں آواز بلند کرنے پر کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔

کشمیری رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ نے بھارتی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار کشمیری عوام کی شناخت، زبان اور دین کو ختم کرنے کی سازش کر رہی ہے، مگر کشمیری اپنی عزت اور انصاف کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق، قابض بھارتی فوج نے صرف پہلگام واقعے کی آڑ میں 3,190 کشمیریوں کو گرفتار کیا، 81 گھروں کو مسمار کیا اور 44 نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کیا۔مقبوضہ وادی میں مسلسل احتجاج، ہڑتالیں اور عوامی مظاہرے اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ بھارت دس لاکھ فوج کے باوجود کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو کچلنے میں ناکام ہے۔