پاراچنار میں 70 دن سے مرکزی شاہراہ اور اہم آمدورفت کے راستے بند ہونے کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
ایم این اے حمید حسین نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ راستوں کی بندش کے سبب روزمرہ استعمال کی اشیاء، خوراک اور ادویات کی شدید کمی ہو گئی ہے، اور بازار مکمل طور پر بند ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تندور اور ہوٹل بھی بند ہونے کے باعث شہری خوراک سے بھی محروم ہیں، جبکہ علاج کی سہولت نہ ملنے کی وجہ سے بچوں اور دیگر مریضوں کی اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ایم این اے حمید حسین نے اس سنگین صورتحال کو ذمہ دار حکام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان قرار دیا اور کہا کہ 70 دن سے راستوں کی بندش اور مرکزی شاہراہ پر مسافروں کے قتل کے واقعات پر خاموش رہنا اور اب تک راستے نہ کھولنا انصاف کے منافی ہے۔
انہوں نے حکومت سے فوری طور پر راستوں کو کھولنے کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ اگر راستے جلد نہ کھولے گئے اور عوام کی حفاظت کو یقینی نہ بنایا گیا تو وہ احتجاجی تحریک شروع کر دیں گے۔
اس دوران فیصل ایدھی نے بتایا کہ ایدھی ایئر ایمبولینس کے ذریعے پاراچنار میں ادویات کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے بھی کہا کہ جرگہ ممبران دوبارہ کوہاٹ پہنچ گئے ہیں اور وہاں مثبت پیش رفت کی اُمید ہے۔یہ صورتحال پاراچنار کے عوام کے لیے انتہائی پریشان کن ہے اور حکومت کی جانب سے فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔