تہران سے ملنے والی معلومات کے مطابق، برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے ایرانی حکومت کے قریبی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ جاری تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے، تو ایران مختلف جوابی اقدامات پر غور کر رہا ہے۔
ان میں یورپ میں موجود امریکی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنانے کا آپشن بھی شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق، ایرانی افواج نے جنوب مشرقی یورپ خصوصاً بلغاریہ میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کا جائزہ لیا ہے۔ اس کے علاوہ، قبرص کو بھی ممکنہ ہدف کے طور پر زیر غور لایا گیا ہے۔ ایرانی حکام نے اس کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی زیرِسمندر فائبر آپٹک کیبلز میں خلل ڈالنے کے امکانات کا بھی ذکر کیا ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق، ممکنہ جوابی کارروائی کی نوعیت اور شدت کا انحصار امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر ہوگا۔ تاہم، رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان ممکنہ منصوبوں پر عملدرآمد کب یا کس حد تک کیا جائے گا، اور ان کے نفاذ کی تصدیق بھی نہیں کی گئی ہے۔ اس صورتحال میں خطے اور عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔