ایران ایٹمی بم بنانے کے قریب، دباؤ بڑھا تو فیصلہ ممکن، نیویارک ٹائمز

ایران ایٹمی بم بنانے کے قریب، دباؤ بڑھا تو فیصلہ ممکن، نیویارک ٹائمز

امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" نے اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اگر ایران پر فوجی دباؤ میں اضافہ ہوا— خصوصاً امریکہ کی جانب سے— تو ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

 رپورٹ میں امریکی خفیہ اداروں کے حوالہ سے کہا گیا ہے کہ اگرچہ ایران نے ابھی تک باضابطہ طور پر جوہری بم کی تیاری کا فیصلہ نہیں کیا، تاہم اس کے پاس افزودہ یورینیم کی اتنی مقدار موجود ہے جو ایک ایٹمی بم کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔

 اہم نکات:
امریکی خفیہ اداروں کے مطابق:"ایران کی جانب سے ایٹمی ہتھیار بنانے کی راہ پر صرف اُس وقت قدم اٹھایا جا سکتا ہے جب اسے براہِ راست فوجی خطرہ یا قیادت کو نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ہو۔"رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر:امریکہ ایران کے حساس ایٹمی تنصیب 'فردو پلانٹ' پر حملہ کرتا ہے.یا سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے.تو ایران جوابی حکمت عملی کے تحت ایٹمی ہتھیار بنانے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
 علاقائی و عالمی خطرات:
انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ صرف جوابی مزاحمت کے طور پر ہوگا، نہ کہ پہل کرنے کے لیے۔ایسی کسی بھی پیش رفت کی صورت میں پورے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ اور عالمی سطح پر سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
 ایران کی موجودہ ایٹمی پوزیشن:
ایران این پی ٹی (Non-Proliferation Treaty) کا رکن ہے لیکن 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) سے امریکہ کے انخلا کے بعد معاملات بگڑ چکے ہیں۔حالیہ برسوں میں ایران نے افزودگی کی سطح میں اضافہ کیا ہے، تاہم وہ مسلسل یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
 ماہرین کا مؤقف:
جوہری ہتھیار کی طرف رجحان نہ صرف ایران کے لیے، بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔اگر سفارتی ذرائع اور عالمی ادارے مؤثر کردار ادا نہ کر سکے تو یہ صورتحال غیر متوقع عسکری تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
 نتیجہ:
نیویارک ٹائمز کی یہ رپورٹ خطے میں پہلے سے جاری ایران-اسرائیل کشیدگی، یمن اور غزہ کی صورتحال، اور امریکہ کی فوجی موجودگی کے تناظر میں انتہائی اہم اور تشویشناک تصور کی جا رہی ہے۔ عالمی طاقتوں پر زور ہے کہ وہ سفارتی حل تلاش کریں اور خطے کو ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ سے بچائیں۔