ایران کی خبر رساں ایجنسی فارس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے شمال مغربی ایرانی شہر تبریز پر کیے گئے حملے میں ایک ایرانی فوجی افسر جاں بحق ہو گیا ہے۔
فارس نیوز کے مطابق حملے میں ایرانی فوجی افسر مہداد پاشائے نشانہ بنے، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے تاحال حملے کی مکمل تفصیلات، مقام یا نقصان کی نوعیت کے بارے میں مزید معلومات جاری نہیں کی گئیں۔رپورٹ کے مطابق تبریز پر ہونے والی کارروائی امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان جاری بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔ تبریز ایران کے اہم شہروں میں شمار ہوتا ہے جہاں فوجی تنصیبات بھی موجود ہیں۔دوسری جانب امریکی فوج کی جانب سے ایرانی شہر شیراز میں بھی حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ دنوں میں جاری فوجی کشیدگی کے باعث خطے میں صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف کارروائیوں اور جوابی اقدامات کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملے اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں، جبکہ امریکا کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں ایرانی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو مشرق وسطیٰ میں بحران مزید پھیلنے کا خدشہ ہے، جس کے اثرات عالمی امن، توانائی کی فراہمی اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔