شیخ حسینہ کے آمرانہ دور اور کرپشن پر فنانشل ٹائمز کی دستاویزی فلم جاری

شیخ حسینہ کے آمرانہ دور اور کرپشن پر فنانشل ٹائمز کی دستاویزی فلم جاری

عالمی جریدے فنانشل ٹائمز نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم اور مودی نواز رہنما شیخ حسینہ کے آمرانہ دورِ حکومت پر مبنی ایک چشم کشا دستاویزی فلم جاری کی ہے، جس میں مقامی اور عالمی ماہرین کی تحقیقات کی بنیاد پر ان کی کرپشن، بدعنوانی اور آمرانہ طرزِ حکمرانی کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

فلم میں طلبہ تحریک کی کوآرڈی نیٹر رافیہ رحنوما حریدی نے کہا کہ شیخ حسینہ کا دور کسی بھی طرح جمہوری نہیں تھا۔ فنانشل ٹائمز کے جنوبی ایشیا بیورو چیف جان ریڈ نے انکشاف کیا کہ حسینہ کے خلاف طلبہ کی تحریک نوکریوں کے کوٹے میں کرپشن اور ان کے آمرانہ رویے کے باعث اپنے عروج پر پہنچی۔ ان کے مطابق، بنگلہ دیش میں کرپشن کی وسعت دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں دیکھی گئی۔جان ریڈ نے مزید بتایا کہ سابق حکومت کے قریبی افراد نے فوجی انٹیلی جنس کی مدد سے بینکوں پر کنٹرول حاصل کیا۔ دوسری جانب، ’’اسٹوڈنٹس اگینسٹ ڈسکرمنیشن‘‘ کے کوآرڈی نیٹر رضوان احمد رفعت نے الزام عائد کیا کہ پولیس اور حکمران جماعت کے مسلح غنڈوں نے مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ، اسنائپر شاٹس اور حتیٰ کہ ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ تک کی۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، احتجاج کے دوران تقریباً 1,400 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی یا لاپتہ ہوئے۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹر سوزانہ سیویج نے انکشاف کیا کہ ایس عالم گروپ نے محمد سیف الاسلام کی سربراہی میں 10 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا۔کرپشن کے اس جال میں بنگلہ دیشی سیاستدانوں نے بالخصوص برطانیہ میں مالیاتی اداروں اور جائیدادوں کے ذریعے سرمایہ منتقل کیا۔

’’اسپاٹ لائٹ آن کرپشن‘‘ کی ڈپٹی ڈائریکٹر ہیلن ٹیلر نے کہا کہ لوٹا گیا بڑا سرمایہ برطانیہ کی جائیدادوں میں لگا دیا گیا۔ رپورٹر رافع الدین نے بتایا کہ شیخ حسینہ، ان کی بہن شیخ ریحانہ اور خاندان کے دیگر افراد نے بڑے منصوبوں میں رقوم خوردبرد کیں اور سرکاری زمین غیر قانونی طور پر ہتھیائی۔سابق سربراہ الیکٹورل ریفارم کمیشن بدیعُ العٰلم مجمدار نے کہا کہ حسینہ کے دور میں کرپشن اور لوٹ مار کھلے عام ہو رہی تھی۔ لندن یونیورسٹی کے پروفیسر آف اکنامکس مشتاق خان کے مطابق، عوامی لیگ نے ریاست پر قبضے کے باعث اقتدار کے آخری برسوں میں معیشت اور سیاسی گرفت کھو دی تھی۔موجودہ چیف ایڈوائزر محمد یونس نے انکشاف کیا کہ بنگلہ دیش سے 234 ارب ڈالر بینکاری اور کاروباری شعبے سے لوٹ کر مختلف طریقوں سے بیرون ملک منتقل کیے گئے۔فلم میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے شیخ حسینہ کو پناہ دے کر ان کی آمریت کی حمایت کی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مودی اور حسینہ دونوں نے اپنی حکمرانی کے دوران بدعنوانی، کرپشن اور آمرانہ طرزِ سیاست کے ریکارڈ قائم کیے۔