ٹرمپ کے پیغام میں ایران جنگ میں شامل ہونے کیلئے دباؤ نظر آتا ہے: وزیرِ خارجہ جنوبی کوریا

ٹرمپ کے پیغام میں ایران جنگ میں شامل ہونے کیلئے دباؤ نظر آتا ہے: وزیرِ خارجہ جنوبی کوریا

امریکا کی جانب سے جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں طے شدہ وقت سے ایک ہفتہ قبل ختم کرنے کے فیصلے پر جنوبی کوریا کا ردعمل سامنے آ گیا ہے۔

 جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون نے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فوجی مشقیں کم کرنے کے حکم میں بظاہر سیول کو ایران جنگ میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالنے کا پیغام بھی شامل ہے۔چو ہیون نے پارلیمانی سماعت کے دوران بتایا کہ جنوبی کوریا اور امریکہ کے حکام کو پہلے سے اس فیصلے کا علم نہیں تھا کہ مشقیں محدود کی جائیں گی۔ امریکی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقوں میں نمایاں کمی کی ہے، اور یہ کہ فوجی مشقیں طے شدہ وقت سے ایک ہفتہ قبل ختم کی جا رہی ہیں۔پینٹاگون کے ایک عہدیدار کے مطابق، مشترکہ فوجی مشقیں 17 سے 21 اگست تک جاری رہیں گی، جبکہ اس سے پہلے یہ شیڈول 17 سے 27 اگست تک تھی۔ اس اقدام کے تحت، جنوبی کوریا اور امریکہ کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں کم ہو گئی ہیں، جو خطے میں فوجی طاقت کے مظاہرے اور دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔