آسٹریلوی حکومت نے اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے سیاستدان سیمخا روتھ مین کا ویزا منسوخ کر دیا ہے۔
روتھ مین آسٹریلین جیوش ایسوسی ایشن کی دعوت پر آسٹریلیا کا دورہ کرنے والے تھے، تاہم حکومتی فیصلے کے بعد وہ آئندہ تین سال تک آسٹریلیا کا سفر نہیں کر سکیں گے۔وزیر داخلہ ٹونی برک نے بیان میں کہا کہ آسٹریلیا ایسے افراد کو خوش آمدید نہیں کہے گا جو "نفرت اور تقسیم" کا پیغام پھیلائیں۔ انہوں نے مزید کہا:"آسٹریلیا ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر شخص محفوظ ہے اور ہر کسی کو خود کو محفوظ محسوس کرنے کا حق ہے۔"دوسری جانب، روتھ مین کی مجوزہ تقاریر کے منتظمین نے ویزا منسوخی کو "انتہائی سامیت دشمنی" قرار دیا۔ آسٹریلین جیوش ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو رابرٹ گریگوری نے الزام عائد کیا کہ آسٹریلوی حکومت یہودی برادری اور اسرائیل کو نشانہ بنانے کے "جنون" میں مبتلا ہے۔سیمخا روتھ مین اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے رکن ہیں اور سخت گیر نظریات کے باعث بین الاقوامی سطح پر ایک متنازع شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔