ممبئی میں اذان پر لاؤڈ اسپیکر کی پابندی: انتہا پسند پالیسی یا قانون کی عملداری؟

ممبئی میں اذان پر لاؤڈ اسپیکر کی پابندی: انتہا پسند پالیسی یا قانون کی عملداری؟

بھارت کی سب سے بڑی اور معروف شہری آبادی والے شہر ممبئی میں مذہبی مقامات سے لاؤڈ اسپیکرز ہٹانے کی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔

 اس اقدام کے بعد شہر اب "لاؤڈ اسپیکر فری" قرار دے دیا گیا ہے، جس کا اثر براہِ راست مساجد میں اذان پر بھی پڑا ہے۔

پولیس کا مؤقف:
ممبئی کے پولیس کمشنر دیون بھارتی نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ:"ہم نے شہر بھر میں مختلف مذہبی مقامات سے تقریباً 1,500 لاؤڈ اسپیکر ہٹا دیے ہیں۔ اب شہر میں صرف مذہبی تہواروں کے دوران لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی عارضی اجازت دی جائے گی۔"پولیس نے واضح کیا کہ مستقبل میں بغیر اجازت لاؤڈ اسپیکرز لگانے پر قانونی کارروائی کی جائے گی، اور ان کی واپسی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

 عدالتی پس منظر:
یہ کارروائی بمبئی ہائی کورٹ کے حکم پر عمل میں لائی گئی ہے، جو کہ رواں سال جنوری 2025 میں جاری کیا گیا تھا۔ عدالت نے یہ فیصلہ دو ہاؤسنگ سوسائٹیز کی درخواست پر سنایا تھا، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ:اذان سمیت دیگر مذہبی سرگرمیوں کے دوران لاؤڈ اسپیکر کا استعمال مسلسل شور اور ذہنی دباؤ کا سبب بنتا ہے۔یہ اقدام "پبلک نوئز پالیوشن ایکٹ" اور شہریوں کے سکونِ قلب کے حق کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے فیصلے میں کہا تھا کہ:"لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کسی بھی مذہب کا لازمی جزو نہیں ہے۔"
 تنقید اور خدشات:
بھارت کی مسلم کمیونٹی اور متعدد سیکولر تنظیموں نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ:یہ کارروائی صرف مساجد کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے، کیونکہ مذہبی تہواروں پر عارضی اجازت کا ذکر صرف ہندو تہواروں کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔اذان اسلام میں ایک روحانی اعلان ہے، اور لاؤڈ اسپیکر اس کا ایک لازمی ذریعہ بن چکا ہے، خاص طور پر بڑے شہروں میں۔متعدد علمائے کرام اور سماجی کارکنوں نے اس اقدام کو "مذہبی آزادی پر حملہ" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ:"جب مندروں میں گھنٹیوں، کیرتن، اور جاگرتوں پر کوئی پابندی نہیں، تو پھر صرف اذان پر کیوں؟"
 سیاسی پہلو:
حالیہ برسوں میں بھارت میں حکمران جماعت بی جے پی اور انتہا پسند ہندوتوا تنظیموں کی پالیسیوں پر اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ اس فیصلے کو بھی بعض حلقے اسی مذہبی تعصب کی کڑی قرار دے رہے ہیں۔

 ماضی کی مثالیں:
یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت میں اذان پر پابندی یا لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر تنازع سامنے آیا ہو۔ اس سے قبل بھی:اتر پردیش، مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش میں اذان پر اعتراضات سامنے آ چکے ہیں۔معروف گلوکار سونونگم نے بھی ایک بار اذان کو "شور" قرار دے کر تنازع چھیڑا تھا۔