بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے نظریاتی طور پر وابستہ ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے متعلق عالمی جریدے دی ڈپلومیٹ کی ایک رپورٹ میں تنظیم کی سرگرمیوں، قانونی حیثیت اور مالی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آر ایس ایس، جو بی جے پی کی نظریاتی اور تنظیمی پشت پناہی کرنے والی تنظیم سمجھی جاتی ہے، اپنے قیام کے تقریباً ایک صدی بعد بھی رجسٹرڈ ادارے کے طور پر کام نہیں کرتی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تنظیم نہ خود کو ٹرسٹ قرار دیتی ہے اور نہ ہی غیر سرکاری تنظیم (این جی او)، جس کے باعث وہ متعدد مالیاتی اور انتظامی ضوابط سے مستثنیٰ رہتی ہے۔دی ڈپلومیٹ کے مطابق آر ایس ایس نے گزشتہ سال امریکا میں لابنگ کی سرگرمیوں پر تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار ڈالر خرچ کیے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تنظیم کا مرکزی دفتر تقریباً 3.75 ایکڑ رقبے پر قائم ہے، جس میں 13 منزلہ تین ٹاورز شامل ہیں، جبکہ تنظیم کی متعدد جائیدادیں مختلف افراد کے نام پر رجسٹرڈ ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔رپورٹ میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ آر ایس ایس خفیہ انداز میں سرگرم رہتی ہے اور اس کا مقصد ہندو قوم پرستی کے نظریے کو فروغ دینا ہے۔
رپورٹ میں تنظیم پر بھارت کے آئینی اصولوں، مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق اور سماجی ہم آہنگی سے متعلق بھی تنقیدی تبصرے کیے گئے ہیں۔دوسری جانب بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما پریانک کھرگے نے آر ایس ایس اور بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر یہ تنظیمیں کامیابیوں کا کریڈٹ لیتی ہیں تو انہیں اپنے مالی معاملات اور کرپشن سے متعلق سوالات کا جواب بھی دینا چاہیے۔واضح رہے کہ آر ایس ایس کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تنظیم ماضی میں بھی اپنے خلاف لگائے گئے ایسے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔