اسرائیلی انتہا پسند وزیرِ اتمار بن گویر کی ہزاروں اسرائیلیوں کے ہمراہ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی

اسرائیلی انتہا پسند وزیرِ اتمار بن گویر کی ہزاروں اسرائیلیوں کے ہمراہ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی

اتمار بن گویر کی قیادت میں ہزاروں اسرائیلیوں کی مسجد الاقصیٰ میں موجودگی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

فلسطینی خبر رساں اداروں کے مطابق یروشلم کے پرانے شہر میں سکیورٹی سخت کر دی گئی، فلسطینیوں کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی اور متعدد علاقوں میں دکانیں بند کروا دی گئیں۔رپورٹس کے مطابق “یروشلم ڈے” کے موقع پر ہونے والے مارچ کے دوران اسرائیلی قوم پرستوں نے اشتعال انگیز اور نسل پرستانہ نعرے لگائے، جبکہ بعض شرکاء کی جانب سے فلسطینی شہریوں کو ہراساں کرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔فلسطینی حلقوں کے مطابق یہ مارچ 1967 میں مشرقی بیت المقدس پر قبضے کی یاد میں نکالا جاتا ہے، جسے وہ اپنے مذہبی اور قومی تشخص کے خلاف اشتعال انگیزی قرار دیتے ہیں۔

دوسری جانب سعودی عرب نے مسجد الاقصیٰ میں پیش آنے والے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقدس مقام پر اس نوعیت کے اقدامات بین الاقوامی قوانین اور مذہبی احترام کی خلاف ورزی ہیں۔خطے میں حالیہ واقعات کے بعد ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور سفارتی ردعمل میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔