دنیا کے ساتھ ترقی کے لیے اقتصادی اصلاحات کی ضرورت ہے، احسن اقبال

دنیا کے ساتھ ترقی کے لیے اقتصادی اصلاحات کی ضرورت ہے، احسن اقبال

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی، احسن اقبال نے سیالکوٹ میں صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر ترقی کے لیے اقتصادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ہمیں مارکیٹ کی نئی تبدیلیوں کے لیے خود کو تیار رکھنا ہوگا، کیونکہ ایک وقت تھا جب ہر گھر میں قالین تیار کیا جاتا تھا، مگر اب یہ صنعت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔​احسن اقبال نے مزید کہا کہ 1960 میں پاکستان کی مجموعی برآمدات 200 ارب ڈالر تھیں، مگر آج دیگر ممالک ہم سے بہتر برآمدات کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا چوتھی اور پانچویں نسل کی ٹیکنالوجیز کی طرف بڑھ رہی ہے، اور ہمیں آرٹیفیشل انٹیلیجنس جیسے جدید ٹیکنالوجیز کو اپنانا ہوگا، ورنہ ہم ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔​وفاقی وزیر نے کہا کہ ترقی سڑکوں اور کارخانوں سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے انسانی وسائل کی بہتری ضروری ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ چین میں 14 سال تک ہر فرد کی تعلیم لازمی ہے، جبکہ پاکستان میں شرح خواندگی صرف 70 فیصد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں شامل ہونے کے لیے 90 فیصد شرح خواندگی ہونی چاہیے، اور پاکستان میں 40 فیصد نئی نسل ذہنی تناؤ کا شکار ہے۔​

احسن اقبال نے صنعتکاروں پر زور دیا کہ وہ اپنی برآمدات کو 6 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے سماجی و اقتصادی منصوبہ تیار کریں، تاکہ حکومت ان کی مدد کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا تجارتی نظام اب نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، اور ہمیں پانچ سالہ برآمداتی منصوبہ تیار کرنا ہوگا تاکہ واضح ہو سکے کہ حکومت صنعتکاروں کے لیے کیا کر سکتی ہے۔​انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہمیں اقتصادی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ ہم دنیا کے ساتھ ترقی کی راہ پر چل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مارکیٹ کی نئی تبدیلیوں کے لیے خود کو تیار رکھنا ہوگا، اور اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا ہوگا۔​