وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو سائنس، ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے بنیادی ڈھانچے کو قومی ترقی کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ملک ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔
احسن اقبال نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے علمی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنا ضروری ہے۔
پاکستان کی تکنیکی ترقی میں گیم چینجر ثابت ہو گا دانش یونیورسٹی کا قیام:
احسن اقبال نے اس بات کا ذکر کیا کہ دانش یونیورسٹی کا قیام پاکستان کی تکنیکی ترقی کے سفر میں گیم چینجر ثابت ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمدات پر مبنی معیشت 'اڑان پاکستان' منصوبے کی نبض ہے، اور اس کے لیے پاکستان کی برآمدات کو ٹیکسٹائل سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔
علمی ورثہ کا دوبارہ حصول:
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو اپنا کھویا ہوا علمی ورثہ دوبارہ حاصل کرنا ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دور میں قومیں تیل اور گیس پر نہیں بلکہ ہنر اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ترقی کر رہی ہیں، اور پاکستان کا مستقبل قدرتی وسائل سے نہیں بلکہ علم پیدا کرنے کی صلاحیت سے متعین ہو گا۔
پاکستان کی سائنس ٹیکنالوجی کے شعبے میں پوزیشن:
احسن اقبال نے بتایا کہ مسلم دنیا عالمی آبادی کی 25 فیصد نمائندگی کرتی ہے، لیکن سائنسی ترقی میں مسلم ممالک کا حصہ صرف 2 فیصد سے بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراعات میں سرمایہ کاری کرکے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مستحکم کرنی ہو گی، جیسے جنوبی کوریا، سنگاپور اور اسرائیل نے سائنسی ترقی میں سرمایہ کاری کرکے اقتصادی طاقت بننے کا راستہ اپنایا۔
زرعی سائنسدانوں کی چین میں تربیت:
احسن اقبال نے مزید کہا کہ پاکستان کے سائنسدان اور انجینئر ترقی کے سفر میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کل 300 زرعی سائنسدانوں کا ایک گروپ چین میں تربیت کے لیے روانہ ہو چکا ہے، اور یہ گروپ گرین انقلاب 3.0 کے اثرات سے نمٹنے کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا۔
خواتین کی ٹیکنالوجی تک رسائی:
وفاقی وزیر نے بتایا کہ زرعی سائنسدانوں کے اس گروپ میں 50 فیصد خواتین شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے ٹیکنالوجی تک رسائی کو یقینی بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے تاکہ خواتین بھی ترقی کے عمل میں بھرپور حصہ لے سکیں۔